سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل کے انتقال پر فاروق، عمر، محبوبہ، سوز اور میر افسردہ

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں موصوف کانگریس لیڈر کی رحلت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ 'احمد بھائی کے انتقال کی خبر نے رنجیدہ کر دیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ بتا دیں کہ احمد پٹیل بدھ کی علی الصبح گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کا ایک ماہ قبل کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

عمر عبداللہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'احمد پٹیل صاحب کے انتقال کی خبر سن کر مجھے اور میرے والد محترم کو بہت ہی رنج ہوا۔ ہمارے احمد بھائی کے ساتھ کافی دیرینہ سیاسی تعلقات کے علاوہ ذاتی تعلقات بھی تھے۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے'۔


پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں موصوف کانگریس لیڈر کی رحلت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ 'احمد بھائی کے انتقال کی خبر نے رنجیدہ کر دیا۔ وہ انتہائی منکسر المزاج، نرم دل اور فراخ دل شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کرے، میں ان کے فرزند فیصل اور دیگر اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہوں'۔

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے بھی سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل کی رحلت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'سینئر کانگریس لیڈر اور دوست احمد پٹیل جی کی بے وقت موت سے بے حد دکھ پہنچا ہے۔ یہ کانگریس پارٹی اور مجھ جیسے کانگریسی کارکنوں کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ پٹیل جی کے خاندان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں'۔


سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے بھی احمد پٹیل کی 'بے وقت' موت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ 'میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کی بے وقت موت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں'۔

پروفیسر سوز نے کہا کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ احمد پٹیل کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم ہو تا تھا اور سارے لوگ اُن کو احمد بھائی کہہ کر پکارتے تھے اور وہ ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے اور مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ احمد پٹیل کی موت کل ہند کانگریس اور ملک کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ احمد بھائی کی موت سب سے زیادہ گاندھی پریوار کے لئے نقصان ہے جس خاندان کی طرف احمد بھائی کی وفاداری ہمیشہ غیر متذلذل رہی۔


پروفیسر سوز نے کہا کہ احمد بھائی کے حلقہ احباب میں سماج کے مختلف گروہ اور فرقے شامل تھے اور اُس کا سارا وقت لوگوں کے مسائل سننے اور مسائل کا حل سوچنے میں گزرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 'میں نے احمد بھائی کو قریب سے دیکھا اور یہ پایا کہ وہ لوگوں کے جم غفیر کو سنتے تھے اور وقت کی قید کے بغیر مسائل کا حل تلاش کرنے میں اپنا وقت گزارتے تھے۔ موت کے بے رحم ہاتھوں نے احمد پٹیل کو ہندوستانی سماج سے چھینا اور اُن کی موت بہت لوگوں کے لئے صدمے کی بات ہے!''

سوز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ احمد پٹیل کی موت جہاں اہل خاندان کے لئے عظیم صدمے کی بات ہے، وہاں اُن کی موت سے سونیا گاندھی اور اُن کے خاندان کو زبردست صدمہ پہنچا ہے کیونکہ احمد پٹیل برس ہا برس تک سونیا گاندھی اور اُن کے خاندان کے لئے مشیر خاص کے طور کام کرتے رہے اور احمد بھائی نے اپنی وفاداری کا سکہ جمایا تھا!


ان کا بیان میں مزید کہنا تھا کہ 'میں احمد بھائی کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُن کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر وجمیل سے نوازے'۔ قابل ذکر ہے کہ احمد پٹیل کے انتقال کی خبر ان کے فرزند فیصل پٹیل نے ایک ٹوئٹ کر کے دی۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ 'میں گہرے رنج و غم سے یہ خبر دیتا ہوں کہ میرے والد احمد پٹیل 25 نومبر کی علی الصبح ساڑھے تین بجے انتقال کر گئے۔ قریب ایک ماہ قبل کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کئی اعضا کی خرابی کی وجہ سے ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب کرے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔