مولانا کلب صادق: تعلیم کا منادی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا… نواب علی اختر

مولانا کلب صادق ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ شیعہ، سنی کے دشمن نہیں، سنی، شیعہ کے دشمن نہیں ہیں، بلکہ جہالت دونوں کی دشمن ہے۔ جب تک عالم اسلام سے جہالت کو دور نہیں کریں گے، آپ زندہ قوم نہیں کہے جاسکتے ہیں۔

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

بیشک کچھ شخصیات دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جن کی موت کا مداوا کرنا مشکل ترین مرحلہ ہے۔ انہیں شخصیات میں ممتاز شیعہ عالم دین مولانا ڈاکٹرسید کلب صادق کا بھی شمار ہوتا ہے جو منگل کو دیر رات دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ مولانا کلب صادق کی شخصیت ایسی دل نواز، حیات افروز اور ایسی باغ و بہار تھی کہ جس کی خصوصیات کو ایک مختصر تحریر میں قلمبند کرنا مشکل ہے۔ وہ ایک مصلح قوم کی حیثیت رکھتے تھے جس کی وجہ سے انہیں حکیم امت اور مصلح قوم کہا جاتا تھا۔ ہندوستان کی عظیم شخصیت جن کے بارے میں کچھ لکھنے سے قبل پہلی بار میرا قلم کئی بار ٹھہر سا گیا، دل بے چین ہے اور ذہن منتشر ہے۔ راقم ان سے کافی متاثر تھا، ان سے قلبی تعلق بھی تھا،عقیدت ومحبت بھی تھی اور اب بھی ہے لیکن وہ اب ہمارے درمیان موجود نہیں رہے۔

مولانا کلب صادق گزشتہ 3 سال سے بیمار چل رہے تھے۔ اس وقت میدانتا اسپتال میں ان کا ایک مشکل آپریشن کیا گیا تھا۔ اس کے بعد لکھنؤ کے ایرا میڈیکل کالج میں ان کاعلاج ہو رہا تھا اور وہ وہیں اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہ رہے تھے۔ مولانا پر 17 نومبرکو نمونیا کا حملہ ہوا اور سانس لینے میں پریشانی کے بعد انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی صحت میں کوئی قابل اطمینان بہتری نہیں ہوئی اور آخرکار انہوں نے 24 نومبر 2020 کو رات تقریباً 10 بجے 83 برس کی عمرمیں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ ان کے انتقال کی خبرسے عالم اسلام میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی اور سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سیلاب آگیا۔


حکیم امت کی رحلت پر یہی کہا جائے گا کہ بڑے برسوں کے بعد چمن میں ایسے پھول کھلا کرتے ہیں، جو اپنی خوشبو سے فضا کو معطر کر دیتے ہیں اور عالم کی بات ہی نرالی ہے۔ مولانا مرحوم ایک ایسی شخصیت تھے کہ جس کے سایہ دار شجر تلے پہنچ کر ہر کس و ناکس راحت وسکون پاسکتا تھا۔ ہر فن میں اللہ نے انہیں ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ خصوصاً تعلیم کے میدان میں ان کی جدوجہد سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ مولانا کلب صادق کو موجودہ دور کا سر سید کہنا غلط نہیں ہوگا، کیونکہ انھوں نے علم کا وہ عظیم سر چشمہ جاری کیا ہے جس کے سبب ایک مثالی معاشرہ جلد اپنی پہچان پوری دنیا میں روشناس کرائے گا۔ مرحوم میں ایک انجمن اور ایک روحانی شخصیت تھی۔ وہ پہلے ایسے عالم دین تھے جنہوں نے شیعہ۔ سنی مسلک کے لوگوں کو ایک ساتھ نماز پڑھائی تھی۔

ماڈرن تعلیم پر مولانا کا خاصا زور رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ماڈرن ایجوکیشن ہی اصلی طاقت ہے اور جس کے پاس طاقت نہیں ہوتی ہے، زمانہ اس کو نوچ کھسوٹ کر ختم کر دیتا ہے۔ مدارس میں جانے سے دینی تعلیم اور یونیورسٹی میں جانے سے دنیاوی تعلیم حاصل ہونے کی بات کو وہ غلط مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضمون سے دین اور دنیا کا فرق طے نہیں کیا جاتا بلکہ نیت سے طے کیا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ آج کے دور میں عزت کی زندگی گزارنے کے لیے لازمی طور پر ماڈرن ایجوکیشن حاصل کرنا ہوگا۔ ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ بلا تفریق مسلمان ماڈرن ایجوکیشن کے حصول کے لیے سنجیدہ ہوں۔ اس طرح ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ موجودہ دور کے ایسے دانشور تھے جنہوں نے سرسید کی طرح زمانے کی نبض کو پہچان لیا تھا۔ اسی لئے وہ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ جہالت انسان کی زندگی میں تاریکی کے سوا کچھ نہیں لاتی، جب کہ علم انسان کو ایک مکمل آدمی بناتے ہوئے اس کی کامیاب زندگی کا ضامن ہوتا ہے۔


شہر ادب کہلانے والے لکھنؤ کو آداب و تسلیمات سے مزین کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے مولانا سید کلب عابدؒ کے بھائی مولانا ڈاکٹر کلب صادق طویل عرصے سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر تھے۔ وہ پوری دنیا میں تعلیم اور خاص طور پر لڑکیوں اور یتیم بچوں کی تعلیم کے لیے ہمیشہ سرگرم رہنے کے لیے مشہور تھے۔ اس کے علاوہ وہ ماہر تعلیم اور قومی اتحاد کے علمبردار بھی تھے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ شیعہ، سنی کے دشمن نہیں ہیں، سنی، شیعہ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ جہالت دونوں کی دشمن ہے۔ جب تک آپ عالم اسلام سے جہالت کو دور نہیں کریں گے، آپ زندہ قوم نہیں کہے جا سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں ان کی شخصیت کو ایک طلسمی اور جادوئی شخصیت سے تعبیر کیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ مرحوم لکھنؤ کے مشہور خاندان اجتہاد کے ایک ایسے چشم وچراغ تھے جنہیں ہر فرقہ اور مسلک کے علمی، مذہبی، سیاسی، سماجی حلقے میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی اتحاد بین المسلمین کے لیے نہ صرف کوشاں رہے بلکہ اس کے لیے علمی اور عملی دونوں میدانوں میں خلوص دل سے کام کیا۔ یہ ان کی شخصیت کا ہی اثر ہے کہ انہوں نے اپنے قومی کردار اور شخصی عمل اور صلح کل ذہن کے اتنے گہرے اور پائیدار اثرات مسلمانوں کی اجتماعیت پر مرتب کر دیئے ہیں کہ ان کی وفات نہ صرف شیعہ فرقہ کے لیے سانحہ عظیم ہے بلکہ اہل تسنن کے لیے یہ ایسا ناقابل بیان صدمہ جانکاہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ صدق دل سے ان کی جدائی پر بے قرار ہو اٹھے ہیں۔ یہ مولانا مرحوم کی مخلصانہ اور بے لوث خدمات کا ہی ثمرہ ہے۔


مولانا کلب صادق نے 22 جون 1939 کو خاندان اجتہاد میں آنکھ کھولی۔ عمدة العلماء مولانا سید کلب حسینؒ آپ کے والد ماجد تھے جو لکھنؤ کے امام جمعہ بھی تھے۔ اس کے بعد مولانا کلب حسین کے بڑے بیٹے مولانا کلب عابد لکھنؤ کے امام جمعہ ہوئے پھر مولانا کلب صادق نے کئی سال یہ خدمت انجام دی اور اب ان کے جانشین مولانا کلب جواد امام جمعہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مولانا کلب عابد بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر تھے اور ہر فرقہ ومسلک میں بڑا احترام رکھتے تھے۔ مسلکی اتحاد کے لیے انہوں نے مثالی اقدامات کیے تھے یہی وجہ تھی کہ مرحوم کی نماز جنازہ آصفی امامباڑے میں ہونے کے بعد ٹیلے والی مسجد میں بھی پڑھی گئی تھی۔ مولانا کلب صادق بھی اپنے بھائی کے نقش قدم پر چلے اور انہیں بھی زبردست عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔

مولانا کلب صادق کی ابتدائی تعلیم لکھنؤ کے سلطان المدارس اور جامعہ ناظمیہ میں ہوئی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کی غرض سے وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے جہاں انہوں نے گریجویشن کے بعد عربی ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد واپس لکھنؤ آئے اور لکھنؤ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مرحوم کو نوعمری سے ہی تعلیمی اور سماجی کاموں میں بڑی دلچسپی تھی۔ ان کی تعلیمی اور سماجی کارکردگی کا دائرہ بہت وسیع رہا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں میں تعلیم کے لیے 18 اپریل 1984 میں توحید المسلمین ٹرسٹ قائم کیا اور یونٹی کالج کی بنیاد رکھی۔ اس کے ذریعہ ہونہار غریب بچوں کو تعلیم اور اسکالر شپ کا آغاز کیا۔ معاشرے کو تعلیم یافتہ بنانے میں انہوں بڑی محنت کی۔ مرحوم کی نگرانی میں آج کئی تعلیمی ادارے مسلم بچوں کو دینی اور عصری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ توحید المسلمین ٹرسٹ کے علاوہ یونٹی کالج، یونٹی مشن اسکول، یونٹی انڈسٹریل ٹریننگ سینٹر، یونٹی کمپوٹر سینٹر، یونٹی پبلک اسکول (سبھی لکھنؤ)، ایم یوکالج علی گڑھ، ایرا چیریٹیبل اسپتال، ٹی ایم ٹی بیوہ مشن اسکیم اور ٹی ایم ٹی تعلیم اسپانسر اسکیم بہت فعال ہیں۔


مسلم مذہبی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا کلب صادق ایک سماجی مصلح بھی تھے۔ مسلم بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے انھوں نے ایک بڑی تحریک چلا رکھی تھی۔ اپنی تحریک کوعملی جامہ پہنچانے کے لیے انہوں نے لکھنؤ اور دیگر شہروں میں کئی اسکول اور کالج قائم کیے جس میں یونٹی ڈگری کالج بہترین تعلیم کے لیے مشہور ہے جہاں دو شفٹوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔ صبح پہلی شفٹ میں فیس ادا کرنے والے بچے پڑھتے ہیں جبکہ دوپہر بعد غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

لکھنؤ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں شیعہ مذہبی رہنما کے طور پر منفرد شناخت رکھنے والے مولانا کلب صادق پوری زندگی تعلیم فروغ دینے اور مسلمانوں میں قدامت پسند روایات کے خاتمے کی کوشش کرتے رہے۔ سماجی برائیوں پر وہ کھل کر اپنی رائے رکھتے تھے حالانکہ اکثر انہیں اپنی بیباکی کے لیے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ حق چاہے کتنا بھی کڑوا کیوں نہ ہو اس کو بیان کرنے سے ہرگز پیچھے نہ ہٹنا، مولانا مرحوم کا وطیرہ تھا۔ مولانا مرحوم ہر اجتماع خواہ مجلس عزا ہو، کانفرنس ہو شادی تقریب ہو یا کوئی اور پروگرام، بسا اوقات تعلیم کے منادی کے کردار میں نظر آتے تھے جو اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔