کسان تحریک: یہ وہ کسان ہیں جن کی مظاہرہ کے دوران جان گئی

19 روزہ تحریک کے بعد دہلی میں اپنے قیام کے دوران کسانوں کو اس بات کا احساس ہے کہ ان کے خلاف خوب سازشیں رچی جا رہی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سازش کرنے والے کسان اتحاد کے سامنے ناکام نظر آرہے ہیں

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

سنگھو بارڈر پر احتجاج کر رہے کسانوں کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور وہ ہر نئے دن کے ساتھ جذباتی ہوتے جا رہے ہیں۔ احتجاج کر رہے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کسان رہنما گرنام سنگھ چڈھونی بھی اس وقت انتہائی جذباتی ہو گئے جب انہوں نے ان کسانوں کا ذکر کیا جو کسان تحریک کے دوران شہید ہوگئے۔ خطاب کے دوران وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے جو ساتھی شہید ہوئے ہیں، جو دل کا دورہ پڑنے سے مر گئے یا ایکسیڈینٹ میں مر گئے، وہ سب شہید ہیں۔ ہم ان کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اگر قیادت کر رہے ہیں تو قربانی بھی سب سے پہلے ہم ہی دیں گے اور یہ طے ہے کہ ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اس قانون کو رد کرا کر ہی یہاں سے جائیں گے۔‘‘

19 دن کی تحریک کے بعد دہلی میں اپنے قیام کے دوران کسانوں کو اس بات کا احساس ہے کہ ان کے خلاف خوب سازشیں رچی جا رہی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سازش کرنے والے کسان اتحاد کے سامنے ناکام نظر آرہے ہیں۔ کسان تحریک کے دورن شہید ہوئے کسانوں کو مستقل یاد کیا جا رہا ہے اور کئی جگہ پر ان کسانوں کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ مستقل ان کسانوں کو خراج عقیدت پیش کی جا رہی ہے۔ کسان ہرپریت سنگھ کہتےہیں ’’وہ اپنی جان سے چلا گئے وہ ایک مقصد رکھتے تھے اب ان کی خواہش پوری ہونی چاہیے ہم انہیں سلام کرتے ہیں۔‘‘

شہید ہوئے کسانوں میں شامل ہیں دھنا سنگھ جو 27 نومبر کو شہید ہوئے، دھنا سنگھ پنجاب کے چہلا ولی کے رہنے والے ہیں۔ کسان جنک راج کا انتقال 29 نومبر کو ہوا، وہ برنالا کے رہنے والے تھے۔ گجن سنگھ کا انتقال 28 نومبر کو ہوا اور وہ لدھیانہ کے بنگو کٹرا کے رہنے والے تھے۔ منسا ضلع کے بچونا گاؤں کے رہنے والے، گرجنٹ سنگھ کا انتقال 2 دسمبر کو ہوا۔ ضلع بھٹنڈا کے لالینا کے رہنے والے لکھبیر سنگھ کا انتقال 4 دسمبر کو کسان تحریک کے دوران ہوا۔ شہید ہونے والے کسان سریندر سنگھ کا تعلق پنجاب کے نوا شہر سے تھا۔ موگا کے رہنے والے میوا سنگھ کا انتقال تحریک کے دوران 8 دسمبر کو ہوا۔ ہریانہ کے حسار ضلع کے رہنے والے کسان رام میہر کی جان بھی اس تحریک کے دوران ہی گئی۔ ہریانہ کے سونی پت ضلع کے رہنے والے اجے کمار کا انتقال 8 دسمبر کو ہوا۔ ہریانہ کے جیند ضلع کے کسان کتاب سنگھ کا انتقال کسان تحریک کے دوران ہی ہوا۔ پنجاب کے ضلع سنگرور کے رہنے والے کرشن لال گپتا کا انتقال بھی 7 دسمبر کو ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔