کسانوں کا حکومت کے ساتھ میڈیا کو بھی جواب ، شروع کیا اپنا اخبار ’ٹرالی ٹائمز‘

معروف شاعر اکبر الہ آبادی نے کہا تھا کہ ’کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو‘، کسانوں نے اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے اس شعر پر عمل شروع کر دیا ہے

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @HashmiShaukath
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @HashmiShaukath
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کسانوں نے دہلی کی سرحد جاری اپنی تحریک کے بیچ ’ٹرالی ٹائمز‘ نام سے چار صفحات کا اپنا ایک اخبار شروع کر دیا ہے جو ہفتہ میں دو مرتبہ شائع ہوگا۔ نئے زرعی قوانین کے خلاف جاری تحریک کے دوران اخبار شائع کرنا ایک طرح سے حکومت اور مین اسٹریم میڈیا کو سیدھا جواب تصور کیا جا رہا ہے۔

معروف شاعر اکبر الہ آبادی نے کہا تھا کہ ’کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو‘، کسانوں نے اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلئے اکبر الہ آبادی کے اس شعر پر عمل کیا ہے۔ زبردست سرد لہر کے باوجود کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے کسانوں کی تحریک کا کل 23 واں دن تھا اور اسی دن ’ٹرالی ٹائمز‘ نامی اخبار منظر عام پر آیا۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

گرومکھی اور ہندی میں شائع اس اخبار کی کل دو ہزار کاپیاں مفت تقسیم کی گئیں۔ اس اخبار کے پہلے صفحہ پر شہید بھگت سنگھ کی تصویر شائع کی گئی ہے اور پہلے صفحہ کی بڑی خبر کی سرخی ہے ’جڑیں گے، لڑیں گے، جیتیں گے‘۔

خبروں کے مطابق ’ٹرالی ٹائمز‘ نامی اس اخبار کو تیار کرنے کے پیچھے تو پوری ایک ٹیم ہے لیکن ذہن 46 سالہ مصنف سرمیت ماوی کا ہے۔ چونکہ اس اخبار کا خیال انہیں تحریک کے دوران ٹرالی میں بیٹھ کر آیا، اس لئے انہوں نے اس کو ٹرالی ٹائمز ہی نام دے ڈالا۔ سرمیت کا کہنا ہے کہ اخبار شروع کرنے کا خیال اور ہمت انہیں کسانوں کے بیچ تحریک میں شامل ہونے سے ہی حاصل ہوئی۔یہ اخبار انہوں نے برنالہ کے رہنے والے فوٹوگرافر گردیپ سنگھ دھالیوال کے ساتھ مل کر شروع کیا ہے۔

واضح رہے کسان مین اسٹریم میڈیا میں تحریک کو لے کر چل رہی غلط خبروں سے کافی پریشان ہیں اور وہ اپنے لوگوں کو اپنا موقف بتانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کسانوں کو اپنی آواز کی ضررت تھی کیونکہ حکومت اور میڈیا ان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے۔ کسان اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ ابتداء میں ان کی تحریک کو علیحدگی پسند تحریک سے جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

سرمیت ماوی کا کہنا ہے کہ ’’اس اخبار کے ذریعہ انہوں نے کسانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینے کی کوشش کی ہے جس سے کسان اپنی باتوں کو اپنے لوگوں تک اور حکومت تک اور حکومت کی بات اور منصوبے کسانوں تک پہنچا سکیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 19 Dec 2020, 9:40 AM