کسان تحریک اپنے شباب پر، سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے 11 جنوری کی تاریخ مقرر کی

مودی حکومت کے وزراء اور کسان تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان 8 جنوری کو اگلے دور کی میٹنگ ہونی ہے، اسی کے پیش نظر 11 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت کی تاریخ طے کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

تنویر

دہلی بارڈرس پر کسانوں کی جاری تحریک اس وقت اپنے شباب پر ہے اور کسانوں نے واضح لفظوں میں کہہ رکھا ہے کہ زرعی قوانین واپس نہیں لیے جاتے تو ان کے قدم پیچھے نہیں بلکہ آگے ہی بڑھتے جائیں گے۔ اس درمیان چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے موجودہ حالات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک حالات میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے، اس لیے سپریم کورٹ میں پیر (11 جنوری) کے روز کسان تحریک معاملہ پر سماعت ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت کے وزراء اور کسان تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان 8 جنوری کو اگلے دور کی میٹنگ ہونی ہے، اسی کے پیش نظر 11 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت کی تاریخ طے کی گئی ہے اور اس درمیان کسان تحریک سے جڑی سبھی عرضیوں پر غور کیا جائے گا۔ آج چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ ’’ہم حالات کو سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بات چیت سے معاملہ کا حل نکل جائے۔‘‘ اس پر مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا اور اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ ہمیں امید ہے جلد ہی رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی۔


دراصل نئے زرعی قوانین کے آئینی جواز کو لے کر کچھ وکیلوں نے مفاد عامہ عرضی داخل کی ہے۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے موجودہ حالات کے تعلق سے مذکورہ بیان دیا اور 11 جنوری کو سماعت کی تاریخ مقرر کی۔ عدالت نے کہا کہ ہم کسان تحریک اور زرعی قوانین کی عرضی پر سماعت پیر کے روز ہی کریں گے کیونکہ ہمیں حالات میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس درمیان حکومت کی طرف سے پیش سالیسٹری جنرل تشار مہتا نے سماعت ملتوی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسانوں سے ابھی بات چیت چل رہی ہے، اس لیے عدالت کو اس معاملے پر سماعت ٹالنی چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ کسان تحریک کسی بھی طرح کمزور ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے کیونکہ ایک طرف مودی حکومت نے ضدی رویہ اختیار کرتے ہوئے زرعی قوانین واپس نہ کیے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور دوسری طرف کسانوں نے بھی کہہ رکھا ہے کہ گھر واپسی تبھی ہوگی جب تینوں قوانین واپس لیے جائیں گے۔ کسانوں نے ایم ایس پی پر بھی قانون لانے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ دونوں ہی ایشوز ایسے ہیں جس پر حکومت اور کسانوں کے درمیان بات نہیں بن پا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔