کسان تحریک میں نظر آئی مذہبی رواداری کی مثال، مسلمانوں نے ادا کی نماز، حفاظت پر مامور رہے سکھ نوجوان

مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسان دہلی بارڈر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور متعدد حزب اختلاف کی جماعتیں احتجاج کو حمایت دے رہی ہیں۔ اس احتجاج میں مسلم طبقہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسان دہلی کی سرحدوں پر لگاتار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور حزب اختلاف کی متعدد جماتیں تحریک کو حمایت دے رہی ہیں۔ اس تحریک میں مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں کسان تحریک کے حق میں اترے مسلم طبقہ سے وابستہ افراد سڑک پر نماز ادا کر رہے ہیں۔ اس دوران سکھ نوجوان نمازیوں کی حفاظت پر مامور نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ سکھ طبقہ سے وابستہ لوگ مسلمانوں کے نماز ادا کرنے کے دوان دائرہ بنا کر کھڑے ہیں اور نمازیوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو معروف صحافی رانا ایوب نے شیئر کیا ہے۔ رانا لکھتی ہیں کہ جذباتی کر دینے والی یہ ویڈیو ہندوستان کے اتحاد کی عکاسی کرتی ہے۔

رانا ایوب نے لکھا، ’’اس (ویڈیو) نے مجھے جذباتی کر دیا۔ کسان احتجاج میں سکھ برادران مسلمانوں کے نماز ادا کرنے کے دوران ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اس ویڈیو کو دیکھ کر لوگ گنگا-جمنی تہذیب اور ہندوستان کے بھائی چارے کی تعریف کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کی اصل تصویر ہے اور کوئی بھی مذہب و ذات ہمیں علیحدہ نہیں کر سکتی۔ ہمیں ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ میں ہاتھ تھام کر کھڑے رہنا ہے۔

خیال رہے کہ کسان 27 نومبر سے دہلی ہریانہ بارڈر پر ڈیرہ ڈال کر بیٹھے ہیں اور حکومت سے تینوں نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس دوران 5 دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جبکہ چھٹے دور کے لئے حکومت اور کسان 9 دسمبر کو بات چیت کریں گے۔ دریں اثنا، حکومت پر دباؤ بنانے کی غرض سے کسان تنظیموں نے بھارت بند کی کال دی ہے جس کا ملک بھر میں خاصہ اثر نظر آ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 08 Dec 2020, 11:47 AM
next