کسان تحریک: دہلی بارڈر پر 5ویں خودکشی، آج 75 سالہ ضعیف کسان نے موت کو لگایا گلے

مہلوک کسان رتن سنگھ کا تعلق امرتسر سے تھا اور وہ پنجاب کی کسان مزدور سنگھر سمیتی کے رکن بھی تھے۔ ان کی موت کی خبر سے دہلی بارڈر پر موجود مظاہرین میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ایک طرف مرکز کی مودی حکومت نے متنازعہ زرعی قوانین کو واپس نہ لینے کا فیصلہ کر رکھا ہے، اور دوسری طرف حکومت کی اس ضد سے مایوس کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ آج ایک بار پھر سنگھو بارڈر پر ایک کسان نے اپنی زندگی کو ختم کر دیا اور یہ پیغام دے دیا کہ وہ اپنی جان تو دے سکتے ہیں لیکن بغیر قانون واپسی کے گھر واپسی نہیں کریں گے۔ میڈیا ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق 23 جنوری کی صبح سنگھو بارڈر پر 75 سالہ کسان رتن سنگھ نے خودکشی کر لی، اور یہ کسان تحریک کے دوران دہلی بارڈرس پر ہونے والی اب تک پانچویں خودکشی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ رتن سنگھ کا تعلق امرتسر سے تھا اور وہ پنجاب کی کسان مزدور سنگھر سمیتی کے رکن بھی تھے۔ ان کی موت کی خبر سے دہلی بارڈر پر موجود مظاہرین میں تو غم و غصے کی لہر دیکھنے کو ملی ہی، جب خودکشی کی اطلاع مہلوک کسان کے گاؤں کوٹلی ڈھولے شاہ پہنچی تو وہاں ماتم کا سماں دیکھنے کو ملا۔ رتن سنگھ کئی دنوں سے سنگھو بارڈر پر موجود تھے اور انھوں نے ضعیفی کے باوجود بغیر قانون واپسی کے گھر جانے سے انکار کر دیا تھا۔


واضح رہے کہ رتن سنگھ سے قبل امرندر سنگھ سے نے بھی سنگھو بارڈر پر ہی سلفاس کھا کر خودکشی کر لی تھی۔ علاوہ ازیں غازی پور بارڈر پر کسان کشمیر سنگھ نے پھانسی لگا کر خودکشی کی تھی اور امرجیت سنگھ نے ٹیکری بارڈر پر زہر کھا کر زرعی قوانین کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنی جان دے دی تھی۔ دہلی بارڈر پر سب سے پہلی خودکشی کا معاملہ 16 دسمبر کو سامنے آیا تھا جب کنڈلی بارڈر پر بابا سنت بابا رام سنگھ نے گولی مار کر خود کو ہلاک کر لیا تھا۔ سَنت بابا رام سنگھ نے جو خودکشی نوٹ لکھا تھا اس میں بتایا تھا کہ وہ کسانوں کی تکلیف دیکھ نہیں پا رہے ہیں اور اس لیے اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔