کسان تحریک: اٹل بہاری واجپئی کی پرانی ویڈیو شیئر کر اب ورون گاندھی نے بی جے پی حکومت کو گھیرا

اٹل بہاری واجپئی کے بہانے اس بار ورون گاندھی نے حکومت پر براہ راست حملہ کیا ہے، ورون گاندھی لگاتار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر یا ٹوئٹ کر کے اپنی بات رکھ رہے ہیں۔

ورون گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
ورون گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری تشدد اور کسانوں کی تحریک کو لے کر لگاتار پارٹی لائن سے الگ ہٹ کر بولنے والے ورون گاندھی نے اب حکومت پر براہ راست حملہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس بار بی جے پی حکومت پر حملہ آور ہوتے ہوئے ورون گاندھی نے بی جے پی کی سیاست کے بھیشم پتامہ مانے جانے والے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے ’’بڑے دل والے لیڈر کے سمجھدار الفاظ۔‘‘

ورون گاندھی کے ذریعہ ٹوئٹ کیے گئے اٹل بہاری واجپئی کی تقریر پر مبنی اس پرانی ویڈیو میں سال 1980 لکھا ہے (اس وقت ملک میں کانگریس کی حکومت تھی)۔ ورون کے ذریعہ ٹوئٹ کردہ اس ویڈیو میں اس وقت اٹل بہاری واجپئی کسانوں کے مسئلے پر اس وقت کی حکومت کو کہہ رہے ہیں کہ استحصال کے طریقے چھوڑ دیجیے۔ ڈرانے کی کوشش مت کیجیے۔ کسان ڈرنے والا نہیں ہے۔ ہم کسانوں کی تحریک کا پارٹی پر مبنی سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا اہتے ہیں، لیکن ہم کسانوں کے مناسب مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور اگر حکومت استحصال کرے گی، قانون کا غلط استعمال کرے گی، پرامن مظاہرہ کو دبانے کی کوشش کرے گی تو کسانوں کی جدوجہد میں کودنے میں ہم کوتاہی نہیں کریں گے۔ ان کے ساتھ کندھے سے کندھا لگا کر کھڑے رہیں گے۔


اٹل بہاری واجپئی کے بہانے اس بار ورون گاندھی نے حکومت پر سیدھا نشانہ سادھنے کی کوشش کی ہے۔ دراصل گنے کی قیمت کا مسئلہ ہو یا لکھیم پور کھیری تشدد کا معاملہ، ورون گاندھی لگاتار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر یا ٹوئٹ کر کے پارٹی لائن سے الگ ہٹ کر اپنی بات رکھ رہے ہیں۔ ورون کے ان بیانات کی وجہ سے پارٹی کے لیے لگاتار سبکی والی حالت پیدا ہو رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے اس بار انھیں پارٹی کی قومی مجلس عاملہ سے بھی باہر کر دیا گیا۔ لیکن پارٹی کی قومی مجلس عاملہ سے باہر کیے جانے کے باوجود لکھیم پور کھیری تشدد کو لے کر ورون گاندھی لگاتار جس انداز میں ٹوئٹ کر رہے ہیں، اس سے فی الحال تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ ورون گاندھی اب پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔