کسان لیڈروں نے ’ایگزٹ پول‘ کو کیا خارج، ٹی وی میڈیا کو کٹہرے میں کھڑا کیا

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے جڑے ایگزٹ پول کے نتیجوں کو کسان لیڈروں نے سرے سے خارج کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ سب مودی حکومت کے دباؤ میں میڈیا کی کارگزاری ہے، حقیقی نتائج الگ ہوں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایگزٹ پول کے اندازے سامنے آنے کے ایک دن بعد کسان لیڈروں نے انھیں خارج کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جس طرح سے سبھی سروے میں بی جے پی کو اتر پردیش میں جیتتا ہوا دکھایا گیا ہے، وہ صرف کسی دباؤ کے تحت میڈیا سے کرایا گیا ہے۔ آل انڈیا کسان سبھا کے لیڈر حنان ملا نے کہا کہ ایگزٹ پول کے نتائج ناقابل یقین اور غیر مدلل ہیں۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے زرعی قوانین کے خلاف تحریک میں سرگرمی کے ساتھ شامل رہے حنان ملا نے کہا کہ ٹی وی نیوز اپنا وقار پہلے ہی گنوا چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے حق میں ایگزٹ پول دکھا کر میڈیا نے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ کوئی ان پر اعتماد نہیں کرتا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’اب کسانوں کی تحریک ہی لے لیجیے، پہلے تو میڈیا نے کسانوں کی جدوجہد کا بائیکاٹ کیا، پھر اسے اینٹی نیشنل بنا دیا، لیکن انھیں یہ دکھانا ہی پڑا جب وزیر اعظم نے زرعی قوانین کو واپس لیا۔‘‘


حنان ملا نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اب تک کی سب سے طویل چلی تحریک کا اثر آخر انتخابی نتائج پر کیسے نظر نہیں آئے گا۔ واضح رہے کہ اے آئی کے ایس سمیت سبھی کسان یونینوں نے سنیوکت کسان مورچہ کے بینر تلے پنجاب اور اتر پردیش میں بی جے پی کے خلاف تشہیر کی تھی۔ کسان مورچہ نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ جس پارٹی کی وجہ سے 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی ہے، اسے سزا دی جانی چاہیے۔

تو کیا کسانوں کا بی جے پی کے خلاف تشہیر ناکام ہو گئی، اس کے جواب میں حنان کہتے ہیں کہ ’’ہمارا سچ تو تاریخ ہی بتائے گا۔ اگر بغیر جانبداری کے کوئی سروے کیا جائے تبھی ہماری تحریک کا سماج پر اثر سمجھ میں آئے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جہاں تک ٹی وی نیوز کا سوال ہے، وہ تو بہت پہلے زمینی حقیقت سے دور جا چکے ہیں۔‘‘


زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی طویل تحریک، غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن اور کووڈ کی دوسری لہر میں بدانتظامی کے سبب ہوئی پریشانی کے باوجود بیشتر ایگزٹ پول میں یوپی میں بی جے پی کی ہی جیت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ایگزٹ پول میں بی جے پی کو کم از کم 225 اور زیادہ سے زیادہ 326 سیٹیں ملنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یوپی اسمبلی میں کُل 403 سیٹیں ہیں۔ اتر پردیش کی سیاست پر نظر رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ ’’اگر ایگزٹ پول صحیح ثابت ہوتے ہیں تو یہ کوئی کرشمہ ہی ہو سکتا ہے۔‘‘

جاٹ طبقہ سے آنے والے سینئر صحافی اور کسان کارکن کے پی ملک کا کہنا ہے کہ ’’ٹی وی میڈیا نمک کا قرض ادا کر رہی ہے۔‘‘ اتر پردیش انتخابات کو بہت ہی گہرائی سے کور کر چکے ملک کہتے ہیں ’’برسراقتدار پارٹی کی طرف سے تمام سروے ایجنسیوں کو پیسے دیئے گئے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’کون جانتا ہے کہ سیٹوں کی ٹیبل بی جے پی کے کہنے پر طے کی گئی ہے... اگر سروے کے نتیجے غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا کبھی کوئی ان ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرائے گا یا نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’انتخابی کمیشن کو ایگزٹ پول پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ ان سروے کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہی رہ گیا ہے اور انتخابی کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔‘‘


ایگزٹ پول کے نتیجوں پر حیران ہوتے ہوئے پنجاب کانگریس کے ترجمان امرت گل نے بھی کہا کہ سارے سروے غلط ثابت ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ چاہے پنجاب ہو یا اتر پردیش، ٹی وی میڈیا کے سروے غلط ہی نکلنے والے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر جگہ لوگ بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنا چاہتے ہیں، ایگزٹ پول پنجاب میں آپ کی جیت دکھا رہے ہیں، لیکن یہ سچائی نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’آپ پنجابیت کے نمائندہ نہیں ہیں۔ جب کانگریس کارکن کسانوں کی حمایت میں تحریک کر رہے تھے تب آپ کہاں تھے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔