عام بجٹ 2026 پر نظریں مرکوز، شعبۂ تعلیم کومل سکتا ہے تحفہ، ہنر اور اے آئی کو خاص توجہ ملنے کا امکان
ماہرین کا خیال ہے کہ تعلیم میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے اساتذہ، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ایسا کرنے سے ہی اس شعبے میں انقلابی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

عام بجٹ 2026 پیش ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے۔ یکم فروری جو اس سال اتوار کو ہے اس کے باوجود مالی سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں اسی روز پیش کیا جائے گا۔ اس بار سبھی کی نظریں خاص طور پر تعلیم کے شعبے پر مرکوز ہیں جہاں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت بڑے فیصلے متوقع ہیں جن میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ رواں سال کے بجٹ میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن تعلیم کے شعبے کے لیے زیادہ فنڈز مختص کر سکتی ہیں، جس سے ملک میں مہارت کی بنیاد مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کو پہلے سے زیادہ مالی امداد بھی مل سکے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومنت کی جانب سے تعلیم میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے اساتذہ، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ایسا کرنے سے ہی اس شعبے میں انقلابی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا...سراج نقوی
خبروں کے مطابق جے پوریہ گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ششر جے پوریہ کا خیال ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے سہی اور مناسب بجٹ ملنا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے مزید وضاحت کی کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر ملک کی مہارت تیار ہوتی ہے۔ آج کی یہ مہارت ہی مستقبل میں دیگر شعبوں کو مضبوط کرنے کاکام کرتی ہے۔ بجٹ سے ان کی سب سے زیادہ توقعات اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ہیں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’اے بی پی‘)
جے پوریہ کے مطابق صرف ماہر اساتذہ ہی بہتر تعلیم کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں امید ہے کہ حکومت بجٹ میں پیشہ ورانہ اور ہنر پر مبنی تعلیم کے قومی پروگرام اور ساختی فنڈنگ کو فروغ دے گی۔ اس سے کلاس 6 سے 8 تک شروع کئے گئے لازمی اسکل کورس میں سی بی ایس ای کی اصلاحات کو تقویت ملے گی۔ انہیں اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر زیادہ توجہ اور سرمایہ کاری کی بھی امید کا اظہار کیا ہے تاکہ دیہی اور چھوٹے شہروں کے اسکول پیچھے نہ رہیں۔