ہند-امریکہ معاہدہ اور ایپسٹین فائل کو لے کر راہل گاندھی کا شدید حملہ، ’مودی جی، آپ نے ہندوستان کو بیچ دیا‘
لوک سبھا میں راہل گاندھی نے ہندوستان-امریکہ معاہدے، ڈیٹا سکیورٹی اور ایپسٹین فائل پر حکومت پر سخت حملہ بولا اور کہا کہ ملک کو بیچ دیا گیا اور توانائی و مالیات کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز حکومت پر اب تک کا سب سے تیز حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوستان کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا گیا ہے اور ملک استحکام کی حالت سے نکل کر خطرناک عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ایپسٹین فائل، بڑے صنعت کاروں اور ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کا ذکر کیا جس پر ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کا آغاز مارشل آرٹ کی مثال سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مارشل آرٹ میں پہلے گرفت بنتی ہے اور پھر چوک کے ذریعے حریف کو بے بس کیا جاتا ہے۔ سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان-امریکہ معاہدہ اسی ’چوک‘ کی مثال ہے۔ ان کے بقول، ’’ہم نے اپنی عوام کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا۔‘‘
انہوں نے اقتصادی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جیو پولیٹیکل ٹکراؤ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ چین، روس اور دیگر طاقتیں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ توانائی اور مالیاتی نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور قومی سلامتی کے مشیر کے اس بیان پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنگ کا دور ختم ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور دنیا غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کی کشمکش میں سب سے قیمتی اثاثہ ہندوستانی ڈیٹا ہے۔ “اگر امریکہ کو سپر پاور بنے رہنا ہے اور ڈالر کا غلبہ برقرار رکھنا ہے تو اسے ہندوستانی ڈیٹا کی ضرورت ہے۔” ان کے مطابق آبادی بوجھ نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ اس کے ڈیٹا کو محفوظ رکھا جائے۔
راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ کیا اب امریکہ طے کرے گا کہ ہندوستان کہاں سے تیل خریدے؟ اگر امریکہ یہ کہتا ہے کہ آپ فلاں ملک سے تیل نہیں خرید سکتے تو یہ توانائی شعبے کا ہتھیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر اٹھارہ فیصد ہو گیا، جو مالیاتی شعبے کے ویپنائزیشن کی مثال ہے۔ بنگلہ دیش کو زیرو ٹیرف ملنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان ہوا جبکہ امریکی برآمدات میں اضافہ ہوا۔
تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ایپسٹین فائل کا ذکر کیا اور کہا کہ ایک مخصوص کاروباری شخصیت کا نام اس میں ہے، مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ روی شنکر پرساد نے بھی مخالفت کی۔ پیٹھاسین جگدمبیکا پال نے راہل گاندھی کو بجٹ پر محدود رہنے کی ہدایت دی اور بعض بیانات کو ریکارڈ سے خارج کرنے کی بات کہی۔
راہل گاندھی نے دفاعی بجٹ، اڈانی اور انیل امبانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کمپنیوں پر امریکہ میں مقدمات ہیں اور حکومت وضاحت دے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ ہول سیل سرینڈر ہے، صرف وزیر اعظم کا نہیں بلکہ 140 کروڑ عوام کا سرینڈر ہے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان پاکستان کے برابر نہیں ہے اور اسے اپنی حیثیت کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات ہوتے تو پہلی ترجیح ڈیٹا سکیورٹی، دوسری توانائی سلامتی اور تیسری کسانوں کا تحفظ ہونا چاہیے تھا۔ تقریر کے اختتام پر ایوان میں شور شرابہ جاری رہا، جبکہ حکومت کی جانب سے الزامات کو مسترد کیا گیا۔ تقریر کے اختتام پر حزب اختلاف کے ارکان نے حزب اقتدار کے تویہ پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔