پنجاب: لاک ڈاؤن میں پھنسے دلہن کے والدین، مسلم فیملی نے کیا ‘کنیا دان’

فرقہ وارانہ خیرسگالی کی ایک بہترین مثال پنجاب میں دیکھنے کو ملی جہاں ساجد خان نے دلہن پوجا کے والد کی غیر موجودگی میں والد کی سبھی ذمہ داریاں نبھائیں اور ان کی بیوی نے پوجا کی ماں کی ذمہ داری نبھائی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

امریک

کورونا بحران کے اس دور میں جہاں آپسی رشتے تار تار ہونے کی خبریں لگاتار سامنے آ رہی ہیں اور انسانیت خطرے میں نظر آ رہی ہے، ایسے وقت میں پنجاب کے لدھیانہ میں ہوئی ایک شادی نے خیرسگالی کی ایک بہترین مثال پیش کر دی۔ لدھیانہ کے نزدیک ماچھی واڑا کے قریبی گاؤں میں فرقہ وارانہ خیر سگالی کی ایک مثال قائم ہوئی ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دراصل 2 جون کو یہاں کی ایک مقامی مسلم فیملی نے ایک ہندو لڑکی کے ماں-باپ کی غیر موجودگی میں سرپرست کا کردار نبھاتے ہوئے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی تمام رسمیں ادا کیں اور لڑکی کا کنیا دان بھی کیا۔

دراصل ماچھی واڑا علاقہ کے قریب بھٹیاں گاؤں کے ویریندر شرما نے کچھ مہینے پہلے اپنی لڑکی پوجا کی شادی سدیش کمار کے ساتھ 2 جون کے لیے مقرر کی تھی۔ اسی دوران پوجا کے والدین رشتہ داروں سے ملنے اتر رپدیش کے مراد آباد چلے گئے اور لاک ڈاؤن میں وہیں پھنس گئے۔ اس دوران پوجا اپنے والد کے قریبی مسلم دوست ساجد خان کی فیملی کے ساتھ رہ رہی تھی۔ پوجا کے والد ویریندر شرما بیٹی کی شادی کے لیے لگاتار واپسی کی کوشش میں لگے رہے، لیکن جب پہنچنا ناممکن لگا تو انھوں نے اپنے دوست ساجد خان کو نہ آ پانے کی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے شادی کی پوری ذمہ داری سونپ دی۔

اس کے بعد ساجد نے شادی کی خریداری سے لے کر تمام فرائض بخوبی نبھائے۔ گاؤں بھٹیاں میں 2 جون کی دوپہر ساڑھے گیارہ بجے سدیش کمار 6 لوگوں کی بارات لے کر پہنچے اور ساجد خان کی قیادت میں لڑکی والوں کی طرف سے 10 لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کی۔ بے شک شادی سادگی سے ہوئی لیکن بے مثال رہی۔ ساجد خان نے ویریندر شرما کی جگہ پوجا شرما کے والد کی ذمہ داری سنبھالی اور ساجد کی بیوی نے ماں کی۔

شادی کے لیے ساجد خان کی بیوی نے ساڑی پہنی اور بندی لگائی۔ شوہر-بیوی دونوں نے 7 پھیروں کی ہر رسم ادا کی اور کنیادان بھی کیا۔ مسلم فیملی نے ہندو لڑکی کا ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرائی اور روایتی طریقے سے ڈولی میں وداع کیا۔ پوجا کے والدین نے اپنی بیٹی کی شادی موبائل کے ذریعہ براہ راست دیکھی۔ ویریندر شرما نے ساجد خان کا شکریہ ادا کیا تو ساجد کا جواب تھا کہ "بھائی شرمندہ مت کیجیے بلکہ آپ کا احسان ہے کہ کنیادان کا موقع مجھے دیا۔"

کنیادان کرنے والے ساجد کہتے ہیں "ویریندر شرما کا فون آیا کہ پوجا کی شادی نہیں رکنی چاہیے اور تم والد کا کردار نبھاؤ۔ میں نے کہا کہ یہ کہنے کی بات نہیں ہے، اشارہ کافی ہے۔ مطمئن رہیے۔ سب کچھ خود کروں گا۔ پوجا مجھے ماما کہتی ہے۔ ہم لوگوں کا خون کا کوئی رشتہ نہیں ہے، لیکن انسانیت کا ضرور ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پوجا کا کنیا دان کر کے جو سکون مجھے ملا وہ اللہ سب کو بخشے۔ یہ عقل بھی دے کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔"

اس تعلق سے دلہن پوجا شرما کہتی ہیں کہ "ساجد ماما اور مامی نے مجھے اس موقع پر ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اب میں ان کے اور زیادہ قریب ہو گئی ہوں۔ میرا کنیا دان انھوں نے کیا ہے اس لیے میرے دوسرے ماں باپ یہی ہیں۔"

غور طلب ہے کہ پورے پنجاب میں یہ شادی موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی بحث چھائی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے کمنٹ اور تبصرے مثبت ہیں۔ ساجد کو پوجا کے والد کے طور پر شادی کی مبارکبادیاں اور نیک خواہشات مل رہی ہیں۔

next