کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے: فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلسل لاک ڈاﺅن سے یہاں کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوا ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد پیدہ صورتحال سے تاجر طبقہ بری طرح متاثر ہوا جبکہ کاروبار پوری طرح ٹھپ ہوکر رہ گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں مکمل اور دیرپا امن و امان کی فضاء قائم ہونے سے ہی یہاں کے تاجر طبقہ کو درپیش مسائل و مشکلات سے چھٹکارا مل سکتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہاں امن وامان اور خوشحالی کی فضاء قائم ہو اور یہاں کے تاجر اپنا کاروبار بلا روک ٹوک چلا سکیں۔

ان باتوں کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں سٹی سینٹر سنگرل مال کمپلیکس میں آئس کریم شاپ و ریسٹورنٹ کے افتتاح کے دوران کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے معان جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، ترجمان عمران نبی ڈار، ممتاز تاجر حضرات اور آئس کرائم شاپ و ریستوران کے مالک عاشق رفیق خان کے علاوہ معروف معالج ڈاکٹر محمد رفیق خان بھی موجود تھے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلسل لاک ڈاﺅن سے یہاں کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوا ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد پیدہ صورتحال سے تاجر طبقہ بری طرح متاثر ہوا جبکہ کاروباری لوگوں، دکاندار حضرات، سیاحت، ٹراسپورٹ، کامگار طبقہ کا ذریعہ معاش بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جموں وکشمیر کے بیشتر طبقے اس وقت بدترین معاشی بدحالی کے شکار ہیں، جو باعث تشویش ہے۔ ملک میں اگرچہ مارچ 2020 میں لاک ڈاﺅن شروع ہوا، لیکن یہاں 5 اگست 2019 سے ہی بندشیں عائد کی گئیں تھیں اور یہاں مسلسل 10 ماہ تک لاک ڈاﺅن رہا، جس سے یہاں کے اقتصادی حالت کو بہت بڑا دھچکا لگا'۔ فاروق عبداللہ نے اس موقع پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے یہاں مکمل اور دیرپا امن و امان کی فضاء قائم کرے اور یہاں لوگ پھر سے فارغ البالی کے ساتھ زندگی گزارنے لگیں کیونکہ وہی رازق اور عطا کرنے والا ہے۔