آسام میں جیت کے بعد بھی بی جے پی پریشان، وزیر اعلیٰ کے نام پر گو مگو کی کیفیت!

وزیر اعلی سربانند سونووال اور کابینہ میں بی جے پی اور ان کے جونیئر ساتھی دونوں اس ہاٹ سیٹ پردعویداری پیش کر رہے ہیں جس نے ایک نئے وزیر اعلی کی تقرری کو اور بھی پیچیدہ کر دیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

گوہاٹی: آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کو اقتدار میں آئے دو دن گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک بھگوا پارٹی نئے وزیر اعلی کے نام کا فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔ وزیر اعلی سربانند سونووال اور کابینہ میں بی جے پی اور ان کے جونیئر ساتھی دونوں اس ہاٹ سیٹ پردعویداری پیش کر رہے ہیں، جس نے ایک نئے وزیر اعلی کی تقرری کو اور بھی پیچیدہ کر دیا ہے۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں مقیم بی جے پی کی اعلی قیادت نے بھی اس معاملہ میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے سونووال اور ہیمنت وشوا شرما کو برابر کا درجہ دیا اور کہا کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد وزیر اعلی کے نام کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ ہیمنت شرما نے اب تک 50 کے قریب ایم ایل اے کی حمایت کا دعوی کیا ہے۔ بی جے پی کے زیرقیادت اتحاد نے 72 سیٹیں حاصل کیں، جن میں سے بی جے پی نے اپنے طور پر صرف 60 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کا مرکزی پارلیمانی بورڈ جلد ہی ایک مبصر کی تقرری کرے گا، جو ارکان اسمبلی سے بات چیت کرے گا۔ اس کے بعد، پارٹی کی مرکزی قیادت مبصر سے موصولہ رپورٹ کی بنیاد پر نئے وزیر اعلی کے نام کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔