اندور پانی بحران: اموات کے بعد بھی زنگ آلودہ ٹینکروں سے سپلائی، کانگریس کا وزیر اعظم مودی اور موہن یادو سے سوال
اندور میں پانی بحران کے دوران اموات کے باوجود زنگ آلود ٹینکروں سے سپلائی جاری ہے۔ کانگریس نے ایکس پر سوال اٹھایا کہ ایسے گندے ٹینکر کا پانی کیا نریندر مودی اور موہن یادو پئیں گے؟

ملک کے سب سے صاف کہے جانے والے شہر اندور کی تصویر اب ’زہریلے پانی‘ کے بحران سے گندی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بھاگیرتھ پورہ سانحہ کے بعد سونیا گاندھی نگر، گلزار کالونی اور پپلیا راؤ جیسے علاقوں سے خوفناک تصویریں سامنے آئی ہیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کروڑوں روپئے ٹیکس ادا کرنے والے شہری نالی کے درمیان سے گزرنے والی پائپ لائنوں اور کائی، زنگ لگے ٹینکروں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔
'آج تک' کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف رئیلٹی چیک کے دوران ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے سے 10 لوگوں کی موت کے سبب ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد انتظامیہ نے ٹینکرتو بھیجے لیکن ان کی حالت دیکھ کر روح کانپ اُٹھی۔ پانی سپلائی کرنے والے ٹینکروں میں بہت زیادہ زنگ لگا ہوا ہے اور اندراور باہر کائی سے ڈھکا ہوا ہے۔
اس معاملے پر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو گھیر لیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے’ایکس‘ پرایک پوسٹ میں لکھا کہ اندور میں جس ٹینکر سے لوگوں کو پانی سپلائی ہورہا ہے، اس میں خطرناک زنگ لگا ہوا ہے ۔ یہ حال تب ہے جب آلودہ پانی سے 17 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ کیا نریندر مودی اور موہن یادو اس گندے ٹینکر کا پانی پئیں گے؟
اسی دوران شہر کے سونیا گاندھی نگر میں پینے کے پانی کی پائپ لائن گلیوں میں کھلے نالوں کے درمیان سے ہوکر گزررہی ہے۔ پائپ لائن میں لیکیج ہونے کی وجہ سے سیور کا گندہ پانی سیدھے گھروں کے کچن تک پہنچ رہا ہے۔ روز صبح 8 بجے ’نرمدا سپلائی‘ کے نام پر نالوں سے کالا اور بدبودار پانی نکل رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب ’آج تک‘ نے ٹی ڈی ایس میٹر سے پانی کی جانچ کی اور حکومت ہند کے سابق نوڈل افسر سدھیندرا موہن شرما سے بات کی تو چونکا نے والے حقائق سامنے آئے۔ سدھیندرا موہن شرما کے مطابق نرمدا کا یہ آلودہ پانی جان لیوا ہے۔ اگر مسلسل اس کا استعمال کیا گیا تو گردے کی خرابی اور سنگین انفیکشن سے لوگوں کی جان جاسکتی ہے۔ بھاگیرتھ پورہ میں 69 بورنگ آلودہ پانی کی زد میں پائے گئے ہیں جنہیں نگر نگم نے 48 گھنٹوں کے لیے ہٹاکر کلورینیشن شروع کیا ہے۔
اس موقع پرعلاقائی مکینوں نے پانی کے بل دکھا کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ لوگ ہر ماہ 300 روپئے کا بل بھرتے ہیں لیکن پانی صرف 15 منٹ آتا ہے اور وہ بھی ایک طرح سے زہریلا ہوتا ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ کونسلر، ایم ایل اے اور وزیر سنتے ہی نہیں ہیں۔ اس معاملے پرکابینہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے ’آج تک‘ کے سوال پر ’کل جواب‘ دینے کی بات کہی تھی لیکن وہ ’کل‘ کبھی نہیں آیا۔ بہرحال 40ہزار کی آبادی پرمشتمل علاقہ اب مہنگے آر او واٹر کین یا انہیں گندے ٹینکروں کے بھروسے جینے پر مجبور ہے۔
غورطلب ہے کہ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی پینے سے ایک درجن سے زائد لوگوں کی اموات کے بعد پورے مدھیہ پردیش میں سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ اس افسوسناک واقعے پر اپوزیشن سڑکوں پر اتر آیا اور کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ریاست میں مختلف مقامات پر وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے پتلے جلائے جا رہے ہیں۔ لیکن حالات سے ظاہر ہوتا ہے پورے معاملے میں حکومت پوری طرح بے حس بنی ہوئی ہے۔