پرینکا کا آنا راہل کی پختگی کا ثبوت: شری پرکاش
پرینکا واڈرا کو فعال سیاست میں لانے کا سہرا بھی راہل گاندھی کے سر باندھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر کا یہ دور رس فیصلہ ریاست میں پارٹی کو نئی زندگی دینے کا کام کرے گا۔

کانپور: گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے مقابلے کانگریس صدر راہل گاندھی کو اس بار مزید پختہ ذہن بتاتے ہوئے سابق مرکزی وزیر شری پرکاش جائسوال نے دعوی کیا کہ پرینکا واڈرا کی موجودگی میں کانگریس اترپردیش میں کامیابی کی نئی تاریخ رقم کرے گی۔
سری پرکاش جائسوال نے بدھ کو ’یواین آئی‘ سے خاص بات چیت میں کہا ’’2014 کے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی میں جس پختگی کی کمی تھی، وہ آج کے راہل میں نظر نہیں آتی۔ سیاست میں پوری طرح پختہ ذہن کانگریس کے صدر اپنی ذمہ داری کو بہتر طریقےسے ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں تین ریاستوں میں مکمل ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کوملی کامیابی اس بات کا بڑا ثبوت ہے۔‘‘
پرینکا واڈرا کو فعال سیاست میں لانے کا سہرا بھی راہل گاندھی کے سر باندھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر کا یہ دور رس فیصلہ ریاست میں پارٹی کو نئی زندگی دینے کا کام کرے گا۔ الیکشن سے بالکل پہلے پرینکا کی سیاست میں آمد کو معقول ٹھہراتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا ’’الیکشن سے ٹھیک پہلے وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام سے جتنے وعدے کیے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔ الیکشن سے پہلے پرینکا کے آنے سے کانگریس کو نئی طاقت اور جوش ملا ہے۔ انہوں نے اب تک خود کو رائے بریلی تک ہی محدود رکھا تھا مگر اگلے دو تین دنوں میں اترپردیش سمیت پورے ملک کو ان کی مقبولیت کا احساس ہونے لگے گا۔‘‘
سابق کانگریس ریاستی صدر نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن سے پہلے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد سے کانگریس اور مضبوط بن کر ابھرے گی۔ الیکشن سے پہلے ہوئے اس اتحاد کو عوام مسترد کردے گی جس کا خمیازہ سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے علاوہ جھوٹ کے سہارے ملک اور ریاست میں راج کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) کو بھی بھگتنا پڑے گا۔
سری پرکاش جائسوال نے کہا کہ ملک کے عوام کو وزیراعظم نریندرمودی اور کانگریس صدر راہل گاندھی کے درمیان بنیادی فرق اب دکھنے لگا ہے۔ مودی کے اب تک کیے گئے تمام وعدے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ہیں جبکہ راہل گاندھی جو وعدہ کرتےہیں اسے جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسانوں کے قرض معافی کو انہوں نے عملی جامہ پہنانے کے بعد ملک کے عوام سے کم از کم آمدنی کی گارنٹی منصوبہ کا جو وعدہ کیا ہے، اسے مرکزمیں حکومت بنتے ہی نافذ کیا جائے گا۔
کانگریس پر خاندانی سیاست کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے جائسوال نے کہا ’’نہرو خاندان ملک کا سب سے معزز خاندان ہے۔ اس خاندان کی ملک کے لئے دی گئی قربانیوں کا ہر ہندوستانی شکر گزار ہے۔ جن کے خاندان ہی نہیں ہیں، ان کا خاندانی سیاست کے سلسلے میں الزام لگانا جائز ہے۔ بی جےپی میں ایسے درجنوں لیڈر ہیں جن کے بیٹے، بھائی، بھتیجے سیاست میں فعال ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کا بیٹا، کرناٹک کے ایک وزیر کے بیٹے سمیت کئی ایسی مثالیں ہیں، وہیں سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی میں بھی ایسے لیڈروں کی کمی نہیں ہے۔‘‘
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے درمیان نرم بیان بازی کو جائز ٹھہراتے ہوئے جائسوال نے کہا کہ دونوں لیڈروں اور پارٹیوں کے درمیان لڑائی کبھی نہیں رہی۔ یہ بات دوسری ہے کہ دونوں کے درمیان الیکشن سے پہلے اتحاد نہیں ہوا۔
الیکشن کے بعد ملک لوک سبھا کی صوت میں کانگریس کے سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی سے ہاتھ ملانے کے امکان کو ظاہر کرتے ہوئے سینئر کانگریسی لیڈر نے کہا کہ یکساں نظریے والی پارٹیوں کے درمیان سمجھوتہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس الیکشن میں کانگریس کو واضح اکثریت ملنا طے ہے لیکن الیکشن کے بعد کی صورت حال کے جائزہ میں اگر ضرورت پڑتی ہے تو کانگریس ایسے کسی بھی سمجھوتے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
سال 2014 میں کانگریس کی کراری ہار کو مودی لہر کا کرشمہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کی خراب کارکردگی کے پیچھے بی جےپی کا جھوٹ اور فریب تھا۔ بی جے پی نے کانگریس کے خلاف بے بنیاد باتوں کو موثر طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیں اور بھولے بھالے عوام بی جےپی کی باتوں میں آگئے۔
کانگریس میں گروپ بازی کا اعتراف کرتے ہوئے جائسوال نے کہا کہ سبھی سیاسی پارٹیاں گروپ بازی کی شکار ہوتی ہیں۔ کانگریس کا خاندان بڑا ہے اور اس طرح یہاں اندرونی طور پر نااتفاقی کے واقعات سامنے آنا ممکن ہے مگر الیکشن کا اعلان ہوتے ہی چھوٹے کارکنان سے لے کر بڑے لیڈر تک سبھی پورے دم خم کے ساتھ پارٹی کی جیت کے لئے متحد ہوجائیں گے۔
کانپور کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں یہاں جتنے اہم پروجیکٹ شروع ہوئے تھے وہ ابھی تک ٹھنڈے بستے میں ہی پڑے ہیں۔ کئی پروجیکٹوں کے التوا میں رہنے سے شہر سارا دن ٹریفک جام سے دوچار رہتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔