پرواز کے دوران فیل ہواانجن، ٹیک آف کے فوری بعد اسپائس جیٹ فلائٹ کی ایمرجنسی لینڈنگ
ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی عملے کو طیارے کے دوسرے انجن میں تکنیکی خرابی کا پتہ چلا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پائلٹوں نے طیارے کو فوری طور پر دہلی واپس لاکر ایمرجنسی لینڈنگ کرائی۔

اسپائس جیٹ کی ایک پروازکو دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی۔ یہ پرواز دہلی سے لیہہ کے لیے روانہ ہوئی تھی لیکن ٹیک آف کے فوراً بعد پائلٹس نے طیارے کو بحفاظت دہلی واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ مسافروں نے بتایا کہ ہوا میں چنگاریاں اورآگ کے شعلے دیکھے گئے تھے۔ جس سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پرواز میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے، جو اچانک ہوئی تکنیکی خرابی سے خوفزدہ ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی عملے کو طیارے کے دوسرے انجن میں تکنیکی خرابی کا پتہ چلا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پائلٹوں نے طیارے کو فوری طور پر دہلی واپس لاکر ایمرجنسی لینڈنگ کرائی۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طبی اور فائر سروس ٹیمیں فراہم کیں اور تمام ضروری حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کیا گیا۔
محفوظ لینڈنگ کے بعد طیارے کو رن وے سے ہٹا کر محفوظ مقام پر لے جایا گیا ہے۔ اسپائس جیٹ کی تکنیکی اور انجینئرنگ ٹیم اب ہوائی جہاز کے انجن کی جانچ کر رہی ہے تاکہ خرابی کی صحیح وجہ معلوم کی جا سکے۔ اس سلسلے میں وزیر صحت اور ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے بتایا کہ طیارہ محفوظ طور سے لینڈ کر چکا ہے اور کسی مسافر کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔ فی الحال اسپائس جیٹ نے انجن کی خرابی کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
غور طلب ہے کہ حالیہ دنوں میں ہندوستانی ہوا بازی کے شعبے میں تکنیکی خرابیوں اور ایمرجنسی لینڈنگ کے واقعات سے مسافروں کی حفاظت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ جیسی بڑی ایئر لائنز کے طیاروں میں مسلسل سامنے آرہے مسائل کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے سخت موقف اپنایا ہے۔
حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے 3 فروری 2026 کے درمیان 6 ایئر لائنز کے 754 طیاروں کی جانچ کی گئی۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے 377 طیاروں (تقریباً 50 فیصد) میں ایسی تکنیکی خامیاں پائی گئیں جو بار بار سامنے آرہی تھیں۔ جانچ کئے 405 انڈیگو طیاروں میں 148 میں اور ایئر انڈیا کے 166 میں سے 137 طیاروں میں بار بار تکنیکی مسائل درج کئے گئے۔اس فہرست میں ایئر انڈیا ایکسپریس کے 54 طیارے بھی شامل ہیں۔