آئی پیک چھاپہ ماری معاملے میں ای ڈی کی نئی درخواست سپریم کورٹ میں دائر، بنگال کے ڈی جی پی کو ہٹانے کا مطالبہ
اسی معاملے میں مغربی بنگال حکومت نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جہاں اس نے ایک کیویٹ داخل کیا ہے۔ بنگال حکومت نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ اس کا مؤقف سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سیاسی کنسلٹنسی فرم ’آئی پیک‘ کے دفتر اور شریک بانی پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپے ماری کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک اور عرضی دائر کی ہے۔ نئی درخواست میں ای ڈی نے مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار سمیت کچھ اعلیٰ عہدیداروں کو ہٹانے کی مانگ کی ہے۔
اپنی نئی درخواست میں ای ڈی نے الزام لگایا کہ ان افسران نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اور ثبوتوں کی مبینہ طور پر چوری میں مدد کی۔ ای ڈی نے اپنی درخواست میں مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) اور حکومت ہند کے محکمہ لیبر اور تربیت (ڈی او پی ٹی) کو متعلقہ عہدیداروں کو معطل کرنے کے لیے ہدایات دینے کی مانگ کی ہے۔ درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈی جی پی راجیو کمار اس سے قبل کولکتہ پولیس کمشنر کے عہدے پر رہتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے تھے۔
سپریم کورٹ میں آج انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے دائر کی گئی ایک اور درخواست پر بھی سماعت ہونے والی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مغربی بنگال حکومت اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نےآئی پیک کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپے اور تلاشی کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی۔ جسٹس پرشانت کمار شرما اور وپل ایم پنچولی کی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔
اس معاملے میں فوری عدالتی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے افسران کو تلاشی مہم کے دوران مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے سے روکا گیا۔ ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کے افسران کی مداخلت نے اس کی تحقیقات کی غیر جانبداری سے سمجھوتہ ہوا۔ حالانکہ مغربی بنگال حکومت نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جہاں اس نے ایک کیویٹ داخل کیا ہے۔ بنگال حکومت نے درخواست کی کہ اس کا مؤقف سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔