ای ڈی ’آئی پیک‘ چھاپہ معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ میں ہوگی سماعت

عدالت نے نوٹیفکیشن جاری کرکے سماعت کے دوران کورٹ روم میں داخلے کو محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس معاملے میں سماعت کے وقت صرف متعلقہ درخواستوں سے وابستہ فریقین اور وکلاء کو ہی اجازت دی گئی تھی۔

کلکتہ ہائی کورٹ / تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) کے گزشتہ ہفتے انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی پیک) کے دفتر اوراس کے شریک بانی پرتیک جین کے گھر پر چھاپے ماری اور تلاشی سے متعلق تنازعات کو لے کر کولکتہ ہائی کورٹ کی جسٹس سویرا گھوش کی سنگل جج بنچ ایک ساتھ 3 درخواستوں اور جوابی عرضیوں کی سماعت کرے گی۔ پہلے سماعت نہیں ہوپائی کیونکہ سماعت کے وقت کورٹ روم میں بہت زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے جسٹس گھوش کورٹ روم سے چلی گئی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے اگلی سماعت بدھ کو مقرر کی۔

قابل ذکر ہے کہ 9 جنوری کو کورٹ روم میں ہوئی افراتفری کو دھیان میں رکھتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجوئے پال نے منگل کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں سماعت کے دوران کورٹ روم میں داخلے کو محدود کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سماعت کے وقت صرف متعلقہ درخواستوں سے وابستہ فریقین اور وکلاء کو ہی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جسٹس گھوش آخر کار اس کیس کی سماعت کریں گے کیونکہ اسی معاملے میں ای ڈی کی درخواست بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔


جسٹس گھوش کی بنچ کے سامنے جس درخواست پر سماعت ہونا ہے وہ ای ڈی نے داخل کی ہے۔ اس میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر 8 جنوری کو ان دو مقامات پر چھاپے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران مرکزی ایجنسی کے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈال کر اپنے آئینی عہدے کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ای ڈی نے اس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے اور وزیراعلیٰ کو اس کیس میں ایک فریق بنایا ہے۔ اس نے ان سینئر پولیس افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جو وزیراعلیٰ کے ساتھ ان دو مقامات پر گئے تھے جہاں ای ڈی کے افسران چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کر رہے تھے اور مبینہ طور پر کچھ کاغذی فائلیں اور الیکٹرانک دستاویزات جمع کرکے وہاں سے چلے گئے تھے۔


اس سلسلے میں حکمراں ترنمول کانگریس نے اپنی جوابی پٹیشن میں الزام لگایا ہے کہ چونکہ آئی پیک پارٹی کی ووٹر حکمت عملی ایجنسی کے طور پر کام کر رہی ہے، اس لیے ای ڈی کے چھاپے کا مقصد 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے اس کی انتخابی حکمت عملی سے متعلق کئی دستاویزات کو ضبط کرنا اور انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ شیئر کرنا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔