بہار: کورونا سے بے حال کسانوں پر اب ’یاس‘ کا قہر، کئی اضلاع میں فصل تباہ

پورنیہ، نالندہ، سمستی پور، گیا میں سبزی والے کسانوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ زیادہ دیر تک کھیتوں میں پانی جمع رہنے کے سبب فصل خراب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ لیچی اور آم کی فصل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

گردابی طوفان یاس کا بہار میں بھی اثر
گردابی طوفان یاس کا بہار میں بھی اثر
user

قومی آوازبیورو

بہار میں گردابی طوفان ’یاس‘ کے سبب بنے کم دباؤ کی وجہ سے ہوئی بے موسم بارش نے کسانوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ کسان پہلے ہی کورونا وبا کی وجہ سے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے تھے، اور اب ’یاس‘ نے انھیں مزید نقصان پہنچایا ہے۔ بے موسم کی بارش کے سبب لیچی اور آم کو تو نقصان پہنچا ہی ہے، اس کے علاوہ مکئی اور مونگ کے کسانوں کو بھی زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ بارش سے سبزی کے کھیتوں میں پانی بھر گیا ہے جس سے فصل خراب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ ریاستی محکمہ زراعت نے نقصان کا جائزہ لے کر اس کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کن کسانوں کو اس کا فائدہ ملتا ہے۔

گردابی طوفان یاس کا اثر کھیتوں میں خوب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تیز ہوا کے سبب لیچی اور آم کے درختوں پر لگے پھل گر گئے اور لیچی کے پھلوں میں کیڑے لگنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ زرعی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیچی کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ قومی لیچی ریسرچ سنٹر، مظفر پور کے انچارج ڈائریکٹر ڈاکٹر شیودھر پانڈے نے خبر رساں ادارہ ’آئی اے این ایس‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس یاس طوفان سے لیچی کے کسانوں کو نقصان ہی نقصان ہے۔ شاہی لیچی کی اب تڑائی ہو رہی تھی، اب کسانوں کو رخنہ پیش آ گیا ہے۔ تیز ہوا کے سبب تیار لیچی زمین پر گر گئے۔ چینی نسل کی لیچی کو توڑنے میں 10 دن بچے ہیں اور جو درخت میں لیچی ہیں اس میں نمی آ جائے گی، جس سے کیڑے لگنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔‘‘


اِدھر پورنیہ، نالندہ، سمستی پور، ارول، گیا میں سبزی والے کسانوں کو بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ زیادہ وقت تک کھیتوں میں پانی جمع رہنے کے سبب لتّر پیلے پڑ جائیں گے اور خراب ہو جائیں گے۔ پورنیہ کے چنکا باشندہ کسان گریندر ناتھ جھا کہتے ہیں کہ مکئی کی کھیتی کا ہَب مانے جاے والے سیمانچل علاقہ میں بیشتر کسان مکئی کی فصل کو کاٹ چکے ہیں۔ ایسے میں ان کی فصل کھیتوں میں ہی جمع ہے۔ بارش ہونے کے سبب کھیتوں میں پانی بھر گیا ہے اور مکئی کے کسانوں کو نقصان کے علاوہ اب کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہی حال مونگ کی زراعت کے ساتھ ہے۔ مونگ کے پودے ابھی نکلے ہیں اور کھیتوں میں پانی بھر گیا ہے۔

قومی زرعی ریسرچ سنٹر، جھارکھنڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وشال ناتھ کا کہنا ہے کہ ’’لتّر والی فصلوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ مکئی کی جو فصلیں کٹ گئی ہیں، انھیں نقصان ہوگا جب کہ خریف کی فصل کے لیے یہ بارش مفید ہوگا۔‘‘ اس درمیان وزیر زراعت امریندر پرتاپ سنگھ نے کسانوں کو بھروسہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ کسانوں کے ہوئے نقصان کا جائزہ لے گی اور کسانوں کی امداد کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔