لاک ڈاؤن: گھر کے لیے ہزاروں مزدور نکل پڑے پیدل، راہل گاندھی نے کی مدد کی اپیل

مودی حکومت کے ذریعہ غیر منظم طریقے سے لاک ڈاؤن کا اعلان مشکلیں پیدا کر رہا ہے۔ جگہ جگہ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں گھر واپسی کے لیے جمع ہو رہے ہیں اور بسوں پر بھی لوگوں کی زبردست بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہے اور اس کے باوجود دہلی و اس سے ملحق کئی مقامات پر سینکڑوں لوگوں کی اور کئی مقامات پر ہزاروں لوگوں کی بھیڑ جمع ہے۔ یہ بھیڑ زیادہ تر دہاڑی مزدوروں اور غریب طبقہ کے لوگوں کی ہے جو اچانک لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے اپنے گھر نہیں جا پائے اور اب کسی بھی طرح وہ اپنے آبائی وطن پہنچنا چاہتے ہیں۔ مودی حکومت کے ذریعہ غیر منظم طریقے سے لاک ڈاؤن کیے جانے سے حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ جہاں سوشل ڈسٹنسنگ کے لیے اقدام کیے جا رہے ہیں، وہیں جگہ جگہ گروپ بنا کر لوگ سینکڑوں کلو میٹر کی دوری پیدل سفر کرنے کے لیے نکل پڑے ہیں تو کہیں ان بسوں میں غریب افراد سفر کر رہے ہیں جس میں پیر رکھنے تک کی جگہ موجود نہیں ہے۔

ہفتہ کے روز ایسی کئی تصویریں سامنے آئیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ کسی جگہ پر کھڑے یا تو بس کا انتظار کر رہے ہیں، یا پیدل اپنی منزل کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں، یا پھر بس نظر آنے پر اس پر سوار ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ "آج ہمارے سینکڑوں بھائی بہنوں کو بھوکے پیاسے فیملی کے ساتھ اپنے گاؤں کی جانب پیدل جانا پڑ رہا ہے۔ اس مشکل راستے پر آپ میں سے جو بھی انھیں کھانا، پانی، آسرا، سہارا دے سکے، برائے کرم دیں۔ کانگریس کارکنان-لیڈران سے مدد کی خاص اپیل کرتا ہوں۔ جے ہند۔"

دراصل لاک ڈاؤن کے درمیان ہفتہ کی صبح دہلی-غازی پور علاقے میں لوگوں کی زبردست بھیڑ دکھائی دی۔ یہ سبھی دہلی-یو پی بارڈر پر جمع ہو گئے ہیں اور اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے جب پولس والوں نے انھیں باہر نکلنے سے روک دیا۔ دہلی کے الگ الگ علاقوں سے یہاں جمع ہوئے لوگ اب پریشان ہیں کہ آخر وہ کریں تو کیا کریں۔

کچھ ایسی ہی حالت نوئیڈا میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں مہاجر مزدور، خاتون اور بچے این ایچ-24 پر جمع ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دہلی اور ہریانہ کے مختلف علاقوں سے پیدل یہاں پہنچے ہیں۔ آشیش نامی ایک مزدور کا کہنا ہے کہ "میں بہادر گڑھ (ہریانہ) سے آیا ہوں اور ایٹاوہ اپنے گھر جا رہا ہوں۔ میری کمپنی بند ہو گئی ہے، ہمارے پاس گھر واپسی کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے۔" قابل ذکر ہے کہ ایٹاوہ یہاں سے تقریباً 350 کلو میٹر دور ہے۔ گویا کہ آشیش اتنی دوری پیدل طے کرنے کے لیے نکل گیا ہے۔ این ایچ-24 پر جمع بیشتر لوگوں کی یہی حالت ہے اور کوئی 300 کلو میٹر تو کوئی 400 کلو میٹر کی دوری پیدل طے کرنے کا ہدف لے کر نکل گیا ہے۔ غازی آباد سے بھی ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ دہلی و ہریانہ کے کئی مزدور لال کنواں تک پیدل پہنچے ہیں تاکہ وہاں سے مل رہی بس سہولت کا فائدہ اٹھا کر اپنے اپنے گھروں کو جا سکیں۔