مسلمانانِ ہند ’احتیاط کا دامن‘ تھام کر منا رہے عیدالاضحیٰ

پورے ملک میں سنت ابراہیمی پر محفوظ طریقے سے عمل کیا جارہا ہے تاکہ کورونا وبا سے متاثر ماحول کی شدت میں کوئی اضافہ نہ ہو اور جذبہ ایمانی بھی پوری طرح سلامت رہے۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن
user

تنویر

کورونا وبا کے بڑھتے اثرات کے درمیان ہندوستان میں مسلمانوں نے عیدالاضحیٰ کی نماز سخت احتیاطی ماحول میں ادا کی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں قربانی کا عمل بھی بہت احتیاط کے ساتھ اور حکومتی گائیڈ لائن کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی سمیت جن جن ریاستوں میں عید کی نماز مسجدوں میں ادا کی گئی، وہاں ملت اسلامیہ ہند نے ملک وقوم کی مجموعی ترقی، خوشحالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی دعائیں مانگی۔ جن مساجد میں نمازیں ہوئیں وہاں محدود نمازیوں کو اجازت دی گئی تھی اور کئی ریاستوں میں تو مسجد کے اندر محض 7-5 لوگوں نے ہی باجماعت نماز عید ادا کی۔ بیشتر لوگوں نے گھر پر ہی رشتہ داروں و افراد خانہ کے ساتھ مل کر جماعت بنائی۔

اس درمیان پورے ملک میں سنت ابراہیمی پر محفوظ طریقے سے عمل کیا جارہا ہے تاکہ کورونا وبا سے متاثر ماحول کی شدت میں کوئی اضافہ نہ ہو اور جذبہ ایمانی بھی پوری طرح سلامت رہے۔ یوپی، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، مہاراشٹر وغیرہ ریاستوں سے بھی عید قرباں پرسکون ماحول میں منائے جانے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ البتہ قوم کے سبھی فرقوں نے ایثار و قربانی کی علامت بن جانے والے اس تہوار کی ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن
دہلی: جامع مسجد میں نمازِ عید کا منظر

مصافحے اور معانقے سے محروم عیدین میں اس بار مسلمانانِ ہند نے ایک دوسرے کے ساتھ دل سے اظہار خلوص کو مقدم رکھا اور کورونا سے راست اور بالواسطہ متاثر ہونے والوں کے لئے اپنی عبادتگاہوں کے دروازے کھول دیے۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، وزیراعظم اور دوسرے قومی و ملی رہنماؤں نے عید کی مبارکباد پیش کی اور ملک و قوم کے حق مین نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Published: 1 Aug 2020, 11:38 AM
next