کروز ڈرگس کیس: اب بھی جواب طلب ہیں کئی سوال، انھیں نظر انداز کرنا مشکل

کارڈیلیا کروز جب سفر کی تیاری کر رہا تھا تو اس پر 1300 افراد تھے، کیا ان میں سے صرف 8 لوگ ڈرگس کا استعمال کر رہے تھے، یا لے جا رہے تھے؟ کیا این سی بی باقی مسافروں سے پوچھ تاچھ کرنے والی ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کی معاشی راجدھانی ممبئی میں ہائی پروفائل نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) چھاپہ ماری معاملے مین کئی ایسے سوال ہیں جن کا جواب دیا جانا ابھی باقی ہے۔ ان سوالوں کا جواب نہیں ملنے سے راز مزید گہرا ہو جائے گا۔ این سی بی نے اب تک ڈرگس معاملے میں تقریباً 18 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، جس میں بالی ووڈ میگا اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان بھی شامل ہیں۔ آرین کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، سطح در سطح چیزیں کھلتی جا رہی ہیں۔ پہلی بات جو ہمارے دماغ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ممنوعہ سامان کو لگژری جہاز میں کس طرح لے جایا گیا؟

این سی بی نے کہا تھا کہ چھاپہ ماری کے دوران اس نے کوکین، ایم ڈی ایم اے، ایکسٹسی، میفروڈون اور چرس جیسے کئی مشہور پارٹی ڈرگس برآمد کیے ہیں۔ سبھی ممنوعہ اشیاء میں کوکین 13 گرام، چرس 21 گرام، ایم ڈی ایم کی 22 گولیاں اور ایم ڈی پانچ گرام تھی۔ اس کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے کہ اسٹار کِڈس ان دواؤں کو کیسے حاصل کرنے میں اہل تھے؟


این سی بی کی اس کارروائی نے بالی ووڈ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شاہ رخ کے بیٹے کا اس معاملے میں نام تب تک تقریباً حیرت انگیز لگ رہا تھا، جب تک کہ جنوبی ممبئی میں ایجنسی کے دفتر کے اندر ایک بنچ پر بیٹھے آرین کی تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔ ایک گنجے شخص، جس کی شناخت بعد میں ایک مبینہ بی جے پی لیڈر کرن گوساوی کی شکل میں ہوئی، اس نے جہاز کے ڈیک پر اسٹار کِڈ کے ساتھ ایک تصویر کلک کی، جس سے یہ تنازعہ پیدا ہو گیا کہ 2 اکتوبر کو این سی بی کے ذریعہ کی گئی چھاپہ ماری میں بی جے پی کارکن شامل تھے۔

ایک دیگر بی جے پی لیڈر منیش بھانوشالی کو آرین اور ارباز مرچنٹ سمیت کچھ ملزمین کو باہر نکالتے دیکھا گیا۔ ایک نجی شخص، جو بی جے پی کارکن ہے، اس کو کیسے ملزمین کو سونپ دیا گیا۔ اس سوال کا بھی جواب ابھی تک نہیں ملا ہے۔


جن آٹھ لوگوں کو پہلے این سی بی نے حراست میں لیا تھا، ان میں سے تین- موہک جیسوال، نپر ساریکا اور گومت چوپڑا دہلی کے ہیں۔ موہک اور نپر دونوں فیشن ڈیزائنر ہیں، جب کہ گومت ایک ہیئر اسٹائلسٹ ہیں۔ ذرائع نے پہلے خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس سے تصدیق کی تھی کہ موہک اور نپر دونوں گومت کے ساتھ دہلی آئے تھے، لیکن اب بھی ان کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ کیا وہ پارٹی میں شامل ہونے کے لیے ممبئی گئے تھے یا وہ وہاں پہلے سے رہ رہے تھے؟ اس کا جواب بھی آنا باقی ہے۔

ایسا کہا جا رہا ہے کہ لکژری جہاز کارڈیلیا کروز، جس پر این سی بی کے افسران نے چھاپہ ماری کی تھی، جب وہ گوا کے لیے سفر کی تیاری کر رہا تھا، اس پر تقریباً 1300 امیر مسافر سوار تھے۔ کیا ان 1300 لوگوں میں سے صرف 8 لوگ ڈرگس کا استعمال کر رہے تھے، یا لے جا رہے تھے؟ کیا این سی بی باقی مسافروں سے پوچھ تاچھ کرنے جا رہی ہے؟


اس ڈرگس چھاپہ ماری کی توجہ کا مرکز آرین خان ہی رہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ ہائی پروفائل معاملہ بن گیا۔ این سی بی نے واضح طور پر کہا تھا کہ میگا اسٹار کے بیٹے کے پاس سے ڈرگس برآمد نہیں ہوا تھا، جب کہ ارباز مرچنٹ کے قبضے سے صرف 6 گرام چرس پایا گیا تھا۔ اگر مقدار اتنی کم تھی تو این سی بی اس کی چار دن کی مزید حراست کا مطالبہ کیوں کر رہا ہے؟

آرین کے وکیل ستیش مانشندے نے بھی ڈرگ جانچ ایجنسی پر کئی سوال داغے ہیں۔ اس درمیان این سی بی نے کہا کہ اسے حراست بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دیگر ملزمین کے ساتھ اس کا سامنا کرا سکیں۔ بدھ کو این سی بی نے اچت کمار کو گرفتار کیا، جن کا نام وہاٹس ایپ چیٹ سے سامنے آیا تھا۔


وکیل نے مزید ایک سوال پوچھا جس کا جواب بھی نہیں مل پایا۔ سوال تھا کہ این سی بی نے کل ہی آرین اور ارباز کا اچت کے ساتھ سامنا کیوں نہیں کروایا؟ جب کہ این سی بی کے پاس 100 سے زیادہ اہل افسر ہیں۔ آخری، لیکن کم از کم دو دن پہلے این سی بی نے اس معاملے میں چار مزید گرفتاریاں کیں۔ گرفتار کیے گئے سبھی چار لوگ دہلی کی ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی نمس کرے کے ملازم ہیں، جس نے کارڈیلیا کروز ایمپریس جہاز پر ’ریو پارٹی‘ کا انعقاد کیا تھا۔ لیکن رکیے، ہم یہ کیو بھول رہے ہیں کہ کووڈ-19 وبا ابھی بھی ملک کو تباہ کر رہی ہے۔ ملک میں اب بھی ہر دن تقریباً 300 اموات ہو رہی ہیں۔ پھر وبا سے متعلق پابندیوں کے تحت کس طرح ایسی پارٹی کو اجازت دی گئی۔ یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہیں مل سکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔