ڈرگس کیس: آرین خان کی درخواست ضمانت پر وکلاء دفاع کی بحث ختم، کل استغاثہ کی بحث

آج عدالت کے روبرو آرین خان سمیت اس کے دو دوست ارباز مرچنٹ اور من من دھمیچا کی درخواست ضمانت پر وکلاء نے اپنے موقف کے اظہار کے دوران ملزمین پر عائد تمام الزامات سے انکار کیا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں فلم اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان اور دیگر ملزمین کو بحری جہاز میں منشیات کی ریو پارٹی میں شرکت کرنے اور اس کے استعمال کے معاملے میں داخل کردہ درخواست ضمانت پر دفاعی وکلاء کی بحث کا اختتام عمل میں آیا۔ اب کل این سی بی استغاثہ اپنی بحث کا آغاز کرے گی اس کے بعد عدالت اپنا فیصلہ ظاہر کرے گی آرین خان اور اس کے دیگر ساتھیوں کو تین ہفتے قبل ممبئی کے ساحل پر ایک کروز جہاز پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت کے روبرو گزشتہ دو دنوں سے وکیل دفاع کی جاری بحث کا آج اس وقت خاتمہ ہوا جب وکلاء دفاع نے این سی بی کی پوری کارروائی کو ہی غلط بتایا اور عدالت سے تینوں ملزمین کو ضمانت پر رہا کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ آج عدالت کے روبرو آرین خان سمیت اس کے دو دوست۔ ارباز مرچنٹ اور من من دھمیچا کی درخواست ضمانت پر وکلاء نے اپنے موقف کے اظہار کے دوران ملزمین پر عائد تمام الزامات سے انکار کیا۔ ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل انیل سنگھ کل اس معاملے میں اپنی بحث ختم کریں گے۔


گزشتہ کل نامور وکیل مکل روہتگی نے آرین پر عائد تمام الزامات سے انکار کیا تھا اور عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کے قبضے سے کوئی ممنوع اشیاء سمیت منشیات برآمد نہیں ہوئی تھی نیز اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ملزم منشات کا عادی ہے تو بھی اسے اصلاح کا موقع فراہم کیا جائے اور مشروط ضمانت پر رہا کیا جائے آج اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آرین کے دیگر وکیل امت دیسائی نے عدالت میں مجرمانہ سازش کے تعلق سے تفصیلی بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ ملزم کسی طرح سے بھی منشیات کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت کی سازش میں شامل نہیں تھا۔

خان اور اس کے دو دوست۔ ارباز مرچنٹ اور من من دھمیچا نے جسٹس وی ایم سامبرے کے روبرو اپنی درخواستوں میں رہائی کی درخواست کی ہے۔ آرین فی الوقت ممبئ کے آرتھر روڈ جیل میں مقید ہیں، گزشتہ دنوں ان کے والد شاہ رخ خان اور ان کی والدہ گوری خان نے آرین سے ارتھر روڈ جیل میں جا کر جذباتی ملاقات کی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔