’کیا مودی حکومت کے پاس حد بندی سے متعلق کوئی ٹھوس نئی تجویز ہے؟‘ کانگریس نے رجیجو سے پوچھے 3 سوال
کیا مودی حکومت کا ارادہ مسترد شدہ بل کو دوبارہ پیش کرنے اور اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کرانے کی ایک اور کوشش کرنے کا ہے، جو پوری طرح تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور جس میں ایک بار پھر ناکامی یقینی ہے؟

پارلیمنٹ میں حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو لے کر مرکزی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اب بھی تنازعہ جاری ہے۔ اس معاملے پر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے مرکزی وزیر کرن رجیجو اور بی جے پی پر جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے 3 سوال بھی پوچھے ہیں۔ جے رام رمیش نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے اس خط کا بھی ذکر کیا، جو انہوں نے کرن رجیجو کے لیے لکھا تھا اور رجیجو نے اس کا جواب بھی دیا۔
جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے 16 اکتوبر 2026 کو وزیر اعظم کو حد بندی کے معاملے پر ایک خط لکھا تھا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کل اس خط کا جواب دیا۔ اپنے جواب میں کرن رجیجو نے مارچ 2026 میں حد بندی کے معاملے پر بعض سیاسی جماعتوں کے ساتھ وزیر داخلہ کی منتخب مشاورت کا حوالہ دیا ہے۔‘‘
راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ’’خط میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ وزیر داخلہ نے ان مشاورتوں کے دوران جو وعدے کیے تھے، وہ اس آئینی ترمیمی بل میں شامل نہیں تھے، جسے 16 اپریل 2026 کو پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں پوری طرح اور فیصلہ کن انداز میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ جن بیشتر پارٹیوں سے مشاورت کی گئی تھی (کرن رجیجو کے مطابق) انہوں نے بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔‘‘
جے رام رمیش نے کہا کہ وقتاً فوقتاً باتوں کو بڑھاوا دینے کے بجائے کرن رجیجو کو اب 3 اہم سوالوں کے جواب دینے چاہئیں:
کیا مودی حکومت کے پاس حد بندی سے متعلق کوئی ٹھوس نئی تجویز ہے، جس پر اس نے کسی بھی سیاسی جماعت سے بات چیت کی ہو؟
مودی حکومت حد بندی پر کل جماعتی میٹنگ بلانے، اپنی نئی تجویز کو شفاف طریقے سے پیش کرنے اور ایک مشترکہ فورم پر تمام سیاسی جماعتوں کی رائے سننے سے ہٹ دھرمی کے ساتھ انکار کیوں کر رہی ہے؟ تمام اپوزیشن جماعتوں کا یہی مسلسل مطالبہ رہا ہے، جسے ملکارجن کھڑگے نے ایک یا 2 بار نہیں بلکہ تحریری طور پر 6 بار پیش کیا ہے، 4 بار وزیر اعظم کو اور 2 بار خود کرن رجیجو کو۔
کیا مودی حکومت کا ارادہ مسترد شدہ بل کو دوبارہ پیش کرنے اور اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کرانے کی ایک اور کوشش کرنے کا ہے، جو پوری طرح تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور جس میں ایک بار پھر ناکامی یقینی ہے؟
قابل ذکر ہے کہ کھڑگے کے خط کا جواب دیتے ہوئے رجیجو نے لکھا تھا کہ ’’میں آپ کو (ملکارجن کھڑگے) مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے پارلیمانی امور کی وزارت کو خط لکھا۔ آپ نے 16 اکتوبر کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر حد بندی ترمیم پر غور کرنے سے پہلے کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ میں اس معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ حکومت کی کوششوں سے متعلق حقائق درج کر رہا ہوں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
