بینک فراد کے نشانے پر ڈاکٹر، کئی بن چکے ہیں نشانہ

حال ہی میں سی بی آئی کو انٹرپول سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ایک بینک فراڈ گروپ بہت سے لوگوں کا شکار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ بنگال میں سرگرم یہ گروہ زیادہ تر کورونا وارئیرس کو اپنا شکار بنا رہا ہیں۔

سائبر دھوکا، تصویر گیٹی ایمج
سائبر دھوکا، تصویر گیٹی ایمج
user

یو این آئی

کلکتہ: کلکتہ میں سائبرچوروں کے ایک گروہ نے کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ڈاکٹروں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ کئی افراد ان گروہ کا شکار بن کر ہزاروں اور لاکھوں روپے کا نقصان کر چکے ہیں۔ یہ لوگ خود کو کیب کمپنی کے اہلکار بتاکر فون کرتے ہیں او ر کیپ میں چھوٹ دینے کے نام پر اوٹی پی بھجتے ہیں اور بولتے ہیں ہے کہ بھیجے گئے لنک پر او ٹی پی نمبر کلک کریں۔ ٹیکسی کمپنی سے چھوٹ لینے کے نام پر بہت سے ڈاکٹروں نے اپنے روپے گنوا دیئے ہیں۔

مرشد آباد کے بوبازار اسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ ٹیکسی کے ذریعے سفر کرتے تھے۔ ٹیکسی سے اترنے کے بعد فون آیا کہ وہ ٹیکسی کمپنی سے بات کر رہے ہیں۔ اس نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں؟ جواب میں کہا کہ اگر میں ڈاکٹر ہوں تو سامنے والے شخص نے لنک بھیج کر کہا کہ چوں کہ آپ ڈاکٹر ہیں اس لئے کیپ کمپنی نے آپ کے لئے خصوصی آفر دیا ہے۔ اس لنک پر اوٹی پی کلک کریں۔ مگر جیسے ہی اوٹی پی درج کیا میرے وائلٹ سے 20 ہزار روپے کٹ گئے۔


ایک اور ڈاکٹر نے شکایت کی ہے کہ اسی طرح اس کے کھاتے سے ایک لاکھ روپے کٹ گئے ہیں۔ حال ہی میں سی بی آئی کو انٹرپول سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ایک بینک فراڈ گروپ بہت سے لوگوں کا شکار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ بنگال میں سرگرم یہ گروہ زیادہ تر کورونا وارئیرس کو اپنا شکار بنا رہا ہیں۔

کلکتہ پولیس نے اسی طرح کے ایک کال سینٹر کا انکشاف کیا ہے۔ چار کال سنٹرز دو ہفتوں میں پکڑے گئے ہیں، جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے پاس سے ہارڈ ڈسک، موبائل فون، چیک بکس، اے ٹی ایم کارڈ اور بہت سارے دستاویزات بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ان سب کے خلاف آئی ٹی ایکٹ اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔