نیٹ امتحان کے حالیہ تنازعات سے پریشان راجستھان کی طالبہ نے دہلی میں کر لی خود کشی، گاؤں میں سوگ کی لہر

رشتہ داروں کے مطابق رینو پڑھائی میں ہونہار اور محنتی طالبہ تھی۔ اس نے 10ویں اور 12ویں کلاس میں 90 فیصد سے زائد نمبروں کے ساتھ شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کا ہدف ڈاکٹر بن کر سماج کی خدمت کرنا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i

راجستھان کے الور ضلع واقع بھنوکھر گاؤں کی طالبہ رینو مینا نے دہلی میں پھانسی لگا کر خود کشی کرلی۔ رینو مینا (18 سال) ڈاکٹر بننے کا خواب لے کر میڈیکل داخلہ امتحان (نیٹ) کی تیاری کر رہی تھی۔ اس واردات کی اطلاع ملتے ہی متوفی کے گاؤں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے اور گاؤں کے لوگوں نے اسے ایک ہونہار طالبہ کی بے وقت موت بتایا ہے۔

رینو اپنی 3 بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ دہلی میں رہ کر نیٹ امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ اس کے والد ہری نارائن مینا دہلی میں ہی خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 14 جون کی شام رینو اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ لائبریری سے پڑھائی کر کے واپس آئی تھی۔ گھر پہنچنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کچھ دیر بعد جب گھر کے دیگر اراکین نے اسے چائے پینے کے لیے آواز دی تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ کئی بار بلانے کے باوجود جواب نہ ملنے پر اہل خانہ کو شبہ ہوا۔ اس کے بعد کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو رینو کی لاش روشن دان سے بنے پھندے پر لٹکی ملی۔ یہ منظر دیکھ کر اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔


رشتہ داروں کے مطابق رینو پڑھائی میں بہت ہونہار اور محنتی طالبہ تھی۔ اس نے 10ویں اور 12ویں کلاس میں 90 فیصد سے زائد نمبروں کے ساتھ شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کا ہدف ڈاکٹر بن کر سماج کی خدمت کرنا تھا۔ اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے وہ سخت محنت کر رہی تھی اور روزانہ کئی کئی گھنٹے لائبریری میں پڑھائی کرتی رہتی تھی۔

مقامی لوگوں اور افراد خاندان کا کہنا ہے کہ رینو آئندہ نیٹ امتحان کی تیاری میں مصروف تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ حال ہی میں نیٹ امتحان سے متعلق ہوئے تنازعات اور غیر یقینی صورتحال سے وہ ذہنی طور پر کافی پریشانی تھی۔ حالانکہ خود کشی کے پس پشت حقیقی وجہ کیا ہے، اس کا انکشاف جانچ پوری ہونے کے بعد ہی ہو پائے گا۔


بہرحال، رینو کی موت کی خبر جیسے ہی اس کے آبائی گأؤں بھنوکھر پہنچی، پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ گاؤں والوں نے متاثرہ خاندان کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا اور اس واردات کو بہت افسوسناک بتایا۔ وہیں بھرت پور سے رکن پارلیمنٹ سنجنا جاٹو نے بھی طالبہ کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امتحان سے متعلق حالات سے پریشان ہو کر طالبہ نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے تو یہ بہت تشویشناک اور بدقسمتی ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے اپنی تعزیت پیش کی اور معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کی ضرورت پر زور دیا۔