ضلع پنچایت صدر الیکشن: اپوزیشن پوری ریاست میں ’باغپت ماڈل‘ کیوں نافذ نہیں کر پایا؟

سرکاری نظام کے غلط استعمال کے الزامات کے بعد بھی بی جے پی باغپت میں اپوزیشن کا ’چکرویوہ‘ نہیں بھید پائی۔ جینت چودھری کی قیادت میں اپوزیشن نے برسراقتدار طبقہ کی ہر سازش کو یہاں ناکام کر دیا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

اتر پردیش ضلع پنچایت صدر کے الیکشن میں زبردست جیت ملنے کے بعد بی جے پی والے بہت پرجوش ہیں۔ ضلع سطح کے اس سب سے بڑے عہدہ پر اتر پردیش کے 75 اضلاع میں سے 67 پر بی جے پی کی جیت ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بہت خوش ہیں اور لڈو کھانے کھلانے کے عمل میں مصروف ہیں۔ یہ جیت اتنی اہم ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی یوگی آدتیہ ناتھ کو زبردست مبارکباد پیش کی ہے۔ بی جے پی میں جشن کا ماحول ہے۔ کورونا میں سرکاری نظام کی بری طرح قلعی کھلنے کے بعد اور بی جے پی میں اندرونی لڑائی سامنے آنے کے بعد بھی یہ جیت غیر معمولی ہے اور حیران کرنے والی ہے۔ یہ بات مزید حیرت زدہ کرتی ہے کہ جب دو مہینے قبل ہوئے ضلع پنچایت اراکین کے الیکشن میں (یہی ضلع پنچایت رکن صدر چنتے ہیں) بی جے پی کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، تو اب حالات کیسے بدل گئے۔ آج یہ سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث ہے کہ عوام کے ذریعہ سیدھے چنے گئے الیکشن میں 812 اراکین جتانے والی سماجوادی پارٹی صرف 5 ضلع پنچایت صدر بنا پائی ہے، جب کہ 603 ضلع پنچایت رکن والی بی جے پی نے اپنے 67 ضلع پنچایت صدر بنا لیے ہیں۔ یہاں اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ بی جے پی کے 17 ضلع پنچایت صدر تو بلامقابلہ ہی منتخب ہو گئے۔ ان کے سامنے یا تو اپوزیشن پرچہ ہی داخل نہیں کر سکا یا پرچہ رد کر دیا گیا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

پیسوں اور بازو کی طاقت کا الیکشن تصور کیے جانے والے اس الیکشن پر اب اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ بی جے پی نے اس الیکشن کو جیتنے کے لیے سرکاری نظام کا پوری طرح غلط استعمال کیا۔ عوام کے ذریعہ اراکین چننے کے لیے ہوئے الیکشن اور پھر پنچایت صدر عہدہ کے لیے ہوئے الیکشن میں 2 مہینوں کا وقت ملنے کے سبب بی جے پی کو کھیل کرنے کا موقع مل گیا۔ اس دوران اپوزیشن اراکین کو لالچ دے کر خریدا گیا۔ لالچ میں نہ آنے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سرکاری نظام نے پوری طرح اقتدار کے اشارے پر بی جے پی کو یہ الیکشن جتانے کا کام کیا۔ حالات ایسے رہے کہ مغربی اترپردیش کے 14 ضلعوں میں سے 13 سیٹوں پر بی جے پی کے ضلع پنچایت صدر قابض ہو گئے۔ یہاں بھی حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ مغربی اتر پردیش کے ان 13 اضلاع میں بی جے پی کے اراکین کی تعداد اکثریت کے لیے ضروری نمبر نہیں چھوتی تھی۔ اس کے باوجود وہ فتحیاب ہو گئی۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

اس پورے کھیل کو ایک مثال کے ذریعہ اس طرح سمجھیے کہ پنچایت الیکشن کے دوران بجنور ضلع میں بی جے پی کے ساکیندر پرتاپ سنگھ کو 30 اراکین کے ووٹ ملے اور انھوں نے مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار کو 5 ووٹوں سے ہرا دیا جب کہ اس ضلع میں اراکین کے الیکشن میں بی جے پی کے صرف 8 اراکین ہی الیکشن جیتے تھے۔ اسی طرح مظفر نگر، شاملی، رام پور، امروہہ، میرٹھ میں بھی اپوزیشن اکثریت میں تھا لیکن جیت بی جے پی کی ہوئی۔ سب سے زیادہ مایوس کن حالت سہارنپور میں دیکھنے کو ملی جہاں اپوزیشن کے پاس 35 اراکین تھے لیکن وہاں وہ پرچہ تک داخل نہیں کر سکے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

باغپت اس طرح کے معاملوں میں مستثنیٰ ثابت ہوا۔ حالانکہ برسراقتدار طبقہ پر تمام طرح کی سازش کرنے کے الزامات یہاں بھی لگے، لیکن بالآخر آر ایل ڈی امیدوار ممتا کشور نے یہاں بی جے پی کی ببلی دیوی کو 5 ووٹوں سے ہرا دیا۔ ممتا کشور کو 12 اراکین کی حمایت حاصل رہی جب کہ بی جے پی کی ببلی دیوی کو 7 ووٹ ملے۔ ایسا نہیں تھا کہ بی جے پی نے یہاں کھیل کرنے کی کوشش نہیں کی، لیکن اپوزیشن نے اس کی ایک نہیں چلنے دی۔ سابق وزیر اور آر ایل ڈی لیڈر کلدیپ اُجول بتاتے ہیں کہ سازش اس سطح کی تھی کہ اسی الیکشن کے دوران ایک خاتون نامزدگی افسر کے پاس اپنی درخواست لینے پہنچ گئی اور اس نے اپنا نام ممتا کشور بتایا۔ کمال یہ ہے کہ انتظامیہ نے بغیر جانچ کیے اسے سچ بھی مان لیا جب کہ اصلی آر ایل ڈی امیدوار ممتا کشور راجستھان میں تھی۔ ڈیجیٹل تکنیک کے سبب ممتا کشور نے ویڈیو کانفرنسنگ سے اس کی تردید کی اور آر ایل ڈی صدر جینت چودھری نے اس پر فوراً باغپت پہنچنے کا اعلان کر دیا۔ بات بگڑتی دیکھ انتظامیہ ہمت نہیں جٹا پائی۔ اس کے علاوہ کئی ضلع پنچایت اراکین پر مقدمے لکھ دیئے گئے اور کچھ کے خلاف جانچ شروع کروا دی گئی لیکن باغپت کے شیر ڈٹے رہے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

کلدیپ اُجول باغپت کی اپنی اسٹریٹجی پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ باغپت میں آر ایل ڈی کو یہ جیت ان کی ناانصافی کے خلاف جنگ لڑنے کی غیر معمولی صلاحیت کے سبب ملی ہے۔ برسراقتدار طبقہ کے لوگوں نے اراکین کو ڈرانے دھمکانے کا منصوبہ بنایا اور ہم نے ان سے نہ ڈرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ آر ایل ڈی کی ہماری ٹیم نے یہ طے کیا کہ جب بھی کسی رکن کو پریشان کیا جائے گا تو ہم اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ہم کھڑے رہے، جیسے باغپت انتظامیہ نے ایک ضلع پنچایت رکن محبوب علوی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا اور ان کے بچوں کا بھی استحصال کیا تو ہم سینکڑوں آر ایل ڈی کارکنان ان کی حمایت میں دھرنے پر بیٹھ گئے اور بضد رہے۔ اسی طرح ہمارے ایک اور رکن سبھاش گوجر کے اسکول کی جانچ بٹھا دی گئی اور انھیں ڈرایا دھمکایا گیا تو نہ وہ ڈرے اور نہ ہم نے ڈرنے دیا۔ آر ایل ڈی کی ٹیم نے طے کیا تھا کہ ہم ہر مشکل میں ساتھ کھڑے رہیں گے۔ 500 کارکنان ہر وقت الرٹ موڈ میں رہتے تھے۔ جہاں بھی کچھ غلط ہونے کی خبر ملتی تھی، فوراً پہنچتے تھے۔ کلدیپ اُجول بتاتے ہیں کہ ایک رکن فخرالدین کے گھر تو انتظامیہ جے سی بی مشین لے کر پہنچ گئی جس کے بعد ہم مشین کے آگے کھڑے ہو گئے۔ الیکشن والے دن 25 ہزار آدمی سڑکوں پر تھا۔ جس عوام نے ووٹ دیا تھا، اس کا بھروسہ کیسے ٹوٹنے دیتے۔ لوگوں کا موڈ دیکھ کر برسراقتدار طبقہ نے خودسپردگی کر دی۔ ہماری اسٹریٹجی اتحاد قائم رکھنا تھی، اور وہ کامیاب ہوئی۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

باغپت جیسی اسٹریٹجی اپوزیشن پوری ریاست میں کہیں نہیں دکھا پائی۔ مثلاً غازی پور میں بی جے پی کے صرف 2 رکن تھے، لیکن وہاں بھی وہ اپنا ضلع پنچایت صدر بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ سب سے زیادہ 812 رکن بنانے والی سماجوادی پارٹی کو ایٹہ، ایٹاوا، اعظم گڑھ، سنت کبیر نگر اور بلیا میں جیت ملی ہے۔ کچھ جگہ جہاں سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے انتظامیہ کے رویہ سے ناراض ہو کر مخالفت کرنے کی کوشش کی تو وہیں ان پر لاٹھی چلا دی گئی۔


حالانکہ ضلع پنچایت صدر کے الیکشن کو لے کر ایک دلچسپ اعداد و شمار یہ بھی ہے کہ جو بھی پارٹی ضلع پنچایت صدر کا الیکشن جیتتی ہے اس کے ایک سال کے اندر ہونے والا اسمبلی الیکشن ہار جاتی ہے۔ جیسے 2010 میں بی ایس پی کے 51 ضلع پنچایت صدر تھے جب کہ اسمبلی میں ان کے صرف 80 اراکین بنے۔ 2015 میں سماجوادی پارٹی کے 63 ضلع پنچایت صدر تھے اور اسبلی میں ان کے صرف 47 اراکین رہ گئے۔ اب بی جے پی کے 67 ضلع پنچایت صدر بن گئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی سرکاری نظام کی مدد سے جتنے ضلع پنچایت صدر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، اگلے الیکشن میں عوام اسے اتنے اراکین اسمبلی بھی نہیں دے گی۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

سماجوادی پارٹی حکومت میں وزیر رہے ایودھیا کے پون پانڈے کا اس پورے معاملے میں کہنا ہے کہ اس بار جیسا ننگا ناچ ہوا، ویسا انھوں نے اپنے پورے سیاسی کیریر میں کبھی نہیں دیکھا۔ انتظامیہ کھلے عام برسراقتدار طبقہ کے امیدوار کو جتانے میں لگا تھا۔ وہ پوری طرح سے حامی بن گیا تھا۔ اراکین کو ڈرایا دھمکایا گیا، لیڈروں نے انھیں لالچ دیئے، اور جو نہیں مانا اس کے خلاف جھوٹے مقدمے لکھے گئے۔ یہ جیت نہیں ہے بلکہ طاقت کے زور پر اقتدار کو چھینا گیا ہے۔ 2022 میں عوام انھیں بے دخل کر دے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔