مدھیہ پردیش: غیر قانونی ریت ڈھلائی کی رپورٹنگ کر رہے صحافیوں پر ایف آئی آر

کانگریس نے صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آر پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جمہوریت کے چوتھے ستون کو کچل رہی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع میں افسر کا بیان لینے کو لے کر ہوئے تنازعہ میں چھ صحافیوں کے خلاف معدنیات افسر کے ذریعہ رپورٹ درج کرائے جانے کا معاملہ گرمایا ہوا ہے۔ کانگریس جہاں اسے چوتھے ستون پر حملہ کی بات کہہ رہی ہے، وہیں حکومت کی جانب سے اس معاملے میں غیرجانبدارانہ جانچ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں ریت کی غیر قانونی ڈھلائی کو لے کر کچھ صحافی معدنیات افسر کا بیان لینے کے لیے پہنچے تھے۔ صحافیوں کا الزام ہے کہ معدنیات افسر نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی جس کی شکایت انھوں نے ضلع مجسٹریٹ سے کی۔ اس کے بعد معدنیات افسر ساون چوہان نے صحافیوں کے خلاف سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے اور ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرایا۔

اس معاملے کو لے کر سابق مرکزی وزیر ارون یادو نے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش میں حکومت-انتظامیہ مل کر عوام کی آواز کو دبانے کا کام کر رہی ہیں۔ کھرگون میں چھ صحافی دوستوں پر معدنیات افسر سے غیر قانونی ریت ڈلائی معاملے میں بیان لینے پر ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ بی جے پی جمہوریت کے چوتھے ستون کو کچلنے کا کام کر رہی ہے۔‘‘


ریاستی حکومت کے وزیر زراعت کمل پٹیل نے غیر جانبدارانہ جانچ کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کھرگون میں صحافیوں پر غلط طریقے سے ایف آئی آر درج ہونے کی جانکاری حاصل ہوئی۔ میں نے فون پر پولیس سپرنٹنڈنٹ کھرگون کو معاملے کی غیرجانبدارانہ جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔