دلیپ کمار ’مجاہد آزادی‘ بھی تھے، انگریز مخالف تقریر کے لیے ہوئی تھی جیل

دلیپ کمار نے اپنی کتاب میں بتایا تھا کہ دورِ غلامی میں مجاہدین آزادی کو ’گاندھی والے‘ کہا جاتا تھا۔ دوسرے قیدیوں کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے بھی بھوک ہڑتال کر دی تھی۔

دلیپ کمار، تصویر آئی اے این ایس
دلیپ کمار، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: بالی وڈ کے عظیم اداکار دلیپ کمار کو انگریزوں کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں جیل ہوئی تھی۔ دلیپ کمار کو ایک بار انگریزوں کے خلاف تقریر کرنا بھاری پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے انھیں جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔ اس واقعہ کے بارے میں دلیپ کمار نے اپنی آٹو بایو گرافی ’دی سبسٹینس اینڈ دی شیڈو‘ میں ذکر کیا ہے۔ یہ آزادی سے پہلے کی بات ہے جب دلیپ کو اپنے والد کی مدد کرنے کے لیے پڑھائی چھوڑ کر نوکری کرنا پڑی تھی۔ گھر کی مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے پونے میں ملیٹری کنٹریکٹ کلب میں بطور مینیجر نوکری شروع کی۔ ان کے سینڈوِچ ہر کسی کو بہت پسند آتے تھے۔ وہ اس کے لیے مشہور بھی ہو گئے تھے۔

ایک سینئر ساتھی کے کہنے پر دلیپ کمار نے ہندوستان کی تعریف میں تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے ہندوستان کو محنتی، سچے اور غیر متشدد افراد کا ملک قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ ہمارا ملک کس طرح عظیم ہے۔ دلیپ کمار نے اپنی کتاب میں لکھا تھا، میری تقریر کی تعریف کی گئی۔ میں خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا لیکن یہ خوشی کچھ ہی دیرکی تھی۔ میں اس وقت دنگ رہ گیا جب کچھ پولیس افسر آئے اور مجھے ہتھکڑی لگا کر لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت کے خلاف میری فکر کی وجہ سے مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انگریزوں کے خلاف تقریر کرنے کی وجہ سے دلیپ کمار کو ییرواڑہ جیل بھیج دیا گیا تھا، اس وقت وہاں کئی آزادی کے جد و جہد کرنے والے بند تھے۔


دلیپ کمار نے اپنی کتاب میں بتایا تھا کہ اس وقت مجاہدین آزادی کو ’گاندھی والے‘ کہا جاتا تھا۔ دوسرے قیدیوں کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے بھی بھوک ہڑتال کر دی تھی۔ اگلے روز دلیپ کمار کو جیل سے چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے دن صبح جب ان کے جان پہچان کے ایک میجر آئے تو انھیں جیل سے چھوڑ دیا گیا اور اسی وقت سے وہ ‘گاندھی والا‘ بن گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔