اب تک نہیں سلجھا ’مہاراشٹر‘ کا معمہ، شیوسینا-این سی پی میں بھی نہیں ہوئی بات چیت

شیوسینا اور این سی پی کے درمیان حکومت سازی کے تعلق سے فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور شرد پوار بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ جنھیں مینڈیٹ ملا ہے وہ حکومت بنائیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دیویندر فڑنویس نے جمعہ کے روز مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ تو دے دیا، لیکن ابھی تک یہ صاف نہیں ہو سکا ہے کہ ریاست میں حکومت سازی کس کی ہوگی۔ مہاراشٹر کا معمہ حل ہونے کی بجائے اور پیچیدہ ہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے کیونکہ ایک طرف تو بی جے پی نے شیو سینا سے دوری اختیار کر لی ہے اور دوسری طرف شیو سینا اور این سی پی کے درمیان بھی بات چیت کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

بی جے پی کے ذریعہ 50-50 فارمولہ سے پیچھے ہٹنے اور ڈھائی سال کے لیے وزیر اعلیٰ عہدہ نہیں دینے سے ناراض شیوسینا نے آج ایک بار پھر اپنے اتحادی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہفتہ کے روز بی جے پی پر حملہ آور ہوتے ہوئے شیوسینا نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ میں سوال کیا کہ وہ حکومت بنانے کا دعویٰ کیوں پیش نہیں کر رہی؟ سامنا کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ ’’گوا اور منی پور میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی نہیں تھی لیکن اس نے حکومت تشکیل دی۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ یہ سب گورنر کی سرگرمی سے ہوا۔ لیکن مہاراشٹر میں سب سے زیادہ سیٹیں پانے کے باوجود بھی بی جے پی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیوں نہیں کر رہی؟‘‘ اداریہ میں پارٹی سے ایک بار پھر جلد سے جلد حکومت بنانے کی بات دہرائی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر کی موجودہ اسمبلی کی مدت 9 نومبر کو مکمل ہو رہی ہے۔ گویا کہ آج مہاراشٹر اسمبلی کا آخری دن ہے۔

شیو سینا کا کہنا ہے کہ ’’گورنر بی جے پی کو حکومت تشکیل دینے کے لیے مدعو کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں ہیں اور بی جے پی کو یہ موقع گنوانا نہیں چاہیے۔‘‘ سامنا میں بی جے پی کے شیوسینا کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے دعوے کی تنقید بھی کی گئی۔ اس میں لکھا گیا کہ ’’اس وعدے کا کیا جو اتحاد بناتے وقت اقتدار کی تقسیم کو لے کر کیا گیا تھا؟ بی جے پی لگاتار یہ کہہ رہی ہے کہ اقتدار میں شراکت داری کو لے کر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔‘‘

وزیر اعلیٰ عہدہ شیئر کرنے کا وعدہ پورا نہ کرنے پر بھی شیوسینا نے ایک بار پھر بی جے پی کی تنقید کی۔ اس نے کہا کہ ’’شیوسینا کے بغیر ریاست میں حکومت کی تشکیل نہیں ہو سکتی، لیکن بی جے پی اپنے عزائم پوری کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ کیسی سیاست ہے۔ ہم ایسی گندی سیاست میں شامل نہیں ہو سکتے۔‘‘

دوسری طرف این سی پی سربراہ شرد پوار نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ آگے کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وہ بار بار یہ بیان ضرور دے رہے ہیں کہ اپوزیشن میں بیٹھنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن سنجے راؤت سے ہوئی ان کی ملاقات کے بعد سے سیاسی ماہرین کا یہی ماننا ہے کہ اندر-اندر کچھ کھیل ضرور چل رہا ہے۔ ویسے شیوسینا-این سی پی کے درمیان ظاہری طور پر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

9 نومبر کو ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جب میڈیا نے شرد پوار سے یہ سوال کیا کہ کیا اس فیصلہ کا اثر مہاراشٹر کی سیاست پر پڑے گا، تو انھوں نے ایسے کسی توقع سے انکار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں کوئی بدلاؤ آئے گا۔‘‘ حکومت سازی کے تعلق سے سوال کیے جانے پر انھوں نے کہا کہ ’’میں نے کئی بار کہا ہے کہ مینڈیٹ جن کو ہے، انھیں حکومت تشکیل دینا چاہیے۔ بی جے پی-شیوسینا کو حکومت بنانا چاہیے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ حکومت کب بنائیں گے اور ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنے کا موقع کب دیں گے۔‘‘

شرد پوار نے شیوسینا کے ساتھ جانے کو لے کر فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہونے کی بات میڈیا سے کہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی شیوسینا کے ساتھ کوئی تبادلہ خیال نہیں ہو رہا ہے کیونکہ عوام نے ہمیں مینڈیٹ نہیں دیا۔ بہر حال، چونکہ ایودھیا معاملہ پر فیصلہ صادر ہو چکا ہے تو مہاراشٹر کی سیاست میں مچی ہلچل تھوڑی مدھم سی پڑ گئی ہے اور کوئی بھی پارٹی فی الحال بہت زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہی ہے۔