بورڈ امتحان کے نام پر ڈیجیٹل فراڈ نیٹ ورک سرگرم، 500 سے 1000 روپے میں فروخت ہو رہے فرضی پیپر

’اصلی پیپر‘ کے نام پر طلباء کو 500 سے 1000 روپئے میں پیپر دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ پیسے ملنے کے بعد فرضی پیپر بھیج دیا جاتا ہے یا ایڈمن غائب ہو جاتے ہیں۔ معاملے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امتحانات کے موسم میں طلباء کو نشانہ بنانے والے سائبر دھوکے باز ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بورڈ امتحانات شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا، خصوصاً ٹیلی گرام پر سرگرم گروپس ’امتحان سے پہلے اصلی پرچہ‘ فراہم کرنے کا دعویٰ کر کے طلباء کو جال میں پھانس رہے ہیں۔

سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے دوران ایسے متعدد لنکس تیزی سے گردش کر رہے ہیں، جن کے ذریعے طلباء کو خفیہ گروپس میں شامل کیا جاتا ہے۔ وہاں 500 سے 1000 روپے کے عوض ’اصلی پرچہ‘ دینے کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں کی گئی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ٹیلی گرام پر فرضی چینل بنائے جاتے ہیں۔ پہلے طلباء کو لنک بھیجا جاتا ہے اور انہیں ’لیک پیپر‘ کا لالچ دیا جاتا ہے۔ ایک بار جب طالب علم لنک پر کلک کرتا ہے تو اسے دوسرے گروپ میں شامل کر دیا جاتا ہے جہاں اس سے ’کیو آر‘ اسکینر یا پیمنٹ لنک بھیج کر مخصوص رقم جمع کرنے کو کہا جاتا ہے۔ رقم ملتے ہی یا تو فرضی پیپر(سوال نامہ) تھما دیا جاتا ہے یا پھر ایڈمن غائب ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وصولی کے اسکرین شاٹ بھی وائرل ہو رہے ہیں۔


اس طرح کے معاملے سامنے آنے کے بعد مدھیہ پردیش پولیس کی کرائم برانچ نے اس پورے نیٹ ورک کو اپنے ریڈار پر لنے کی بات کہی ہے۔ اے ڈی ایس پی شیلندر سنگھ چوہان کے مطابق یہ نیا سائبر فراڈ نیٹ ورک امتحانات سے پہلے ’فرضی پیپر‘ کے طور پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سرپرستوں اور اساتذہ کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور مشتبہ واٹس ایپ/ٹیلی گرام لنکس سے گریز کریں۔

گزشتہ سال اسی طرح کے کیسوں میں کئی ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہیں ریاستی اسکولی تعلیم کے وزیر اُدے پرتاپ سنگھ نے بھی سرپرستوں اور طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ ’پیپر لیک‘ کے کسی بھی دعوے پر یقین نہ کریں۔ حکومت اس نیٹ ورک کی تحقیقات کر رہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔