'جہاں جھگی وہیں مکان' کا وعدہ بی جے پی حکومت بھول گئی: کانگریس

مستقبل میں جھگی باشندوں کو منتقل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تو پہلے نئے رہائشی مقامات پر روزگار، ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، سیور، اسکول اور اسپتال جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

دہلی پردیش کانگریس نے بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت پر 'جہاں جھگی وہیں مکان' کے وعدے کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہنے کا الزام لگایا ہے۔ پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے منگل کے روز کہا کہ جھگی بستیوں کو منہدم کرنے کے بعد اب حکومت باقی بچی بستیوں میں عوامی سہولت کمپلیکس، نئے بیت الخلاء اور گلیوں کو پختہ کرنے کے لیے 327 کروڑ روپے کی اسکیموں کی منظوری کا جھانسہ دے کر جھگی باشندوں کو دہلی کی ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کے بجائے آخری صف میں ہی کھڑا رکھنا چاہتی ہے۔

دہلی کانگریس کے صدر نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی وزیر اعلیٰ جھگی بستیوں پر دھڑا دھڑ بلڈوزر چلا رہی ہیں، لیکن گزشتہ 11 مہینوں میں اجاڑی گئی جھگیوں کے غریب خاندانوں میں سے کتنے لوگوں کو متبادل رہائش یا فلیٹ دیے گئے، اس کا کوئی واضح اعداد و شمار حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر مستقبل میں جھگی باشندوں کو منتقل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تو پہلے نئے رہائشی مقامات پر روزگار، ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، سیور، اسکول اور اسپتال جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے جھگی بستیوں کی خستہ حال صفائی نظام پر بھی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ اگست میں شروع کی گئی صفائی مہم چار پانچ مہینے گزرنے کے باوجود جھگی علاقوں میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں لا سکی ہے۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے اور کچرے کے ڈھیر مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔


کِراڑی کے شرما انکلیو میں جمع کچرا اور تین سے چار فٹ پانی حکومت کی بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔اٹل کینٹین، آیوشمان آروگیہ مندر اور دیگر اسکیموں کے حوالے سے مسٹر یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی جھگی باشندوں کے ساتھ جذباتی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 45 سے 50 اٹل کینٹینوں کے ذریعے 675 سے زیادہ جھگی بستیوں میں رہنے والے 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی ضروریات کیسے پوری کی جا سکتی ہیں۔