یوگی حکومت کی رخنہ اندازی کے باوجود پرینکا گاندھی نے 44 ہزار مہاجروں کو بھیجا گھر

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی مدد سے اب تک ملک کی کئی ریاستوں میں پھنسے اتر پردیش کے ہزاروں مہاجروں کو بہ حفاظت ان کے گھروں تک پہنچایا جا چکا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں 1000 بسیں مہیا کرانے کی تجویز یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے ذریعہ خارج کر دیے جانے کے باوجود کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی مدد سے اب تک ریاست کے 44 ہزار سے زائد مہاجر اپنے گھر پہنچائے جا چکے ہیں۔ اس دوران پرینکا گاندھی نے لاک ڈاؤن سے پید ابحران میں ملک کے کئی حصوں میں پھنسے لوگوں کو شرمک اسپیشل ٹرینوں، بسوں اور ٹرانسپورٹ کے دیگر وسائل میں سیٹیں حاصل کرنے میں بھی مدد کی ہے۔ اتر پردیش کانگریس کے ذرائع نے بتایا کہ یہ عمل اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ سے مہاجروں کو بھیجنے کے لیے بسوں کے داخلہ کی اجازت دینے کے لیے کی گئی گزارش سے کافی پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔

پرینکا گاندھی سے جڑے کانگریس کے ایک اہم ذرائع نے کہا کہ پارٹی جنرل سکریٹری اور مشرقی اتر پردیش کے انچارج یکم مئی کو شرمک اسپیشل ٹرینیں شروع کیے جانے سے پہلے اور مئی کے وسط میں ریاستی حکومت کی جانب سے بسوں کا ٹرانسپورٹیشن شروع کیے جانے کے کافی پہلے سے ہی لوگوں کی مدد کر رہی ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ جب لاک ڈاؤن کو سب سے پہلے 19 دنوں کے لیے بڑھایا گیا، تبھی سے پرینکا گاندھی نے پھنسے مہاجر مزدوروں کی مدد کرنا شروع کر دیا تھا، کیونکہ مہاجر مزدوروں کے اپنے بچوں کے ساتھ پیدل چلنے کی خبریں نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پر دکھائی دینے لگی تھیں۔

کانگریس ذرائع نے بتایا کہ پرینکا گاندھی کی مداخلت کے بعد 44 ہزار سے زیادہ مہاجر مزدوروں کو الگ الگ ریاستوں سے اتر پردیش کے لیے مہیا کرائی گئی بسوں یا شرمک اسپیشل ٹرینوں کے ذریعہ واپس بھیجا گیا۔ کانگریس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ "پھنسے ہوئے مہاجر مزدوروں کی مدد کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے پرینکا گاندھی نے 5 مئی کو 'اتر پردیش متر' ہیلپ لائن شروع کیا تھا۔ اس ہیلپ لائن کے ذریعہ 5.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنے سفر کے لیے رجسٹریشن کرایا، جب کہ ریاستوں کی مختلف ضلعی یونٹوں سے 5 لاکھ سے زیادہ گزارشات موصول ہوئے۔" بتایا جاتا ہے کہ فہرست کو مختلف ریاستی یونٹوں کے ساتھ ان کے سفری انتظام کے لیے شیئر کیا گیا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پرینکا گاندھی کی ٹیم نے شرمک اسپیشل ٹرینوں کےل یے ادائیگی کی ہے، ذرائع نے واضح کیا کہ کانگریس لیڈر نے ٹرینوں کو بک نہیں کرایا، لیکن وہ مہاجر مزدوروں کی ان گزارشات کو آگے بڑھاتی رہیں جو ان کے دفتر میں حاصل ہوئے تھے۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پارٹی کی ریاستی یونٹوں نے مہاجر مزدوروں کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور بسوں یا شرمک اسپیشل ٹرینوں کے ذریعہ ان کی واپسی کا انتظام کیا اور کانگریس ریاستی یونٹوں کے ذریعہ رقم کی ادائیگی کی گئی۔

غور طلب ہے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مہاجر مزدوروں کی حالت زار دیکھتے ہوئے 4 مئی کو کہا تھا کہ پارٹی ان کے ریل ٹکٹ کا خرچ اٹھائے گی۔ ذرائع نے کہا کہ "اسی وقت سے کانگریس کی ریاستی یونٹوں نے گجرات، مہاراشٹر اور پنجاب ریاستی حکومتوں کو 22 سے زائد شرمک اسپیشل ٹرینوں کے کرایہ کے لیے ادائیگی کی، جو اتر پردیش کے لیے بھیجی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے کارکنان مسافروں کی فہرست کے لیے کوآرڈنیشن بھی کر رہے تھے۔

ممبئی یوتھ کانگریس کے نائب صدر سورج سنگھ ٹھاکر نے بتایا کہ "پرینکا گاندھی کا دفتر ممبئی میں پھنسے ہوئے مہاجر مزدوروں کے سفر اور راشن کے انتظام کی گزارشات کو ہم سے شیئر کرتا ہے۔" مہاجر مزدوروں کی محفوظ واپسی کے لیے کو آرڈنیشن کر رہے ٹھاکر نے کہا کہ پرینکا گاندھی کے دفتر نے یہ یقینی بنایا کہ مہاراشٹر کانگریس ٹیم کے ساتھ شیئر کی گئی فہرست کو سنجیدگی سے لیا جائے اور سبھی کو مدد فراہم کی گئی۔

سورج ٹھاکر نے کہا کہ پرینکا گاندھی کی مداخلت کے بعد کانگریس ریاستی یونٹ نے مہاراشٹر سے اتر پردیش کے لیے 10 ہزار سے 12 ہزار کے قریب مہاجر مزدوروں کے سفر کا انتظام کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ان شرمک ٹرینوں، بسوں یا دیگر چھوٹی گاڑیوں کی مدد سے ان کے گھروں تک پہنچانے میں مدد کی گئی۔

دوسری طرف لدھیانہ کانگریس صدر اشونی کمار شرما کا کہنا ہے کہ "پرینکا گاندھی کے دفتر سے لدھیانہ میں پھنسے لوگوں اور جنھیں مدد کی ضرورت تھی، ان کی فہرست شیئر کی جاتی رہی۔" شرما نے مزید کہا کہ "ہم نے ایمبولنس کا انتظام کیا اور کئی لوگوں کو اسپتال مین داخل کرایا، کیونکہ پرینکا گاندھی دفتر سے اس کی گزارش کی گئی تھی۔" اشونی شرما کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی نے مہاجر مزدوروں کے سفر کا انتظام کرنے اور راشن یا کسی دیگر مدد کی ضرورت کے لیے نجی طور پر مداخلت کی۔

اشونی شرما نے یہ بھی بتایا کہ "ہمیں لدھیانہ سے ہزاروں لوگوں کی گزارشات ملیں، جو اتر پردیش واپس جانا چاہتے تھے اور پھر ہم نے فہرست تیار کی اور بسوں، چھوٹی کاروں اور شرمک اسپیشل ٹرینوں کے ذریعہ ان کے سفر کا انتظام کیا۔" انھوں نے مزید کہا کہ سونیا گاندھی کے پیغام کے بعد کیپٹن امرندر سنگھ کی قیادت والی پنجاب حکومت نے ریاست کے مختلف حصوں میں رہنے والے مہاجر مزدوروں کے لیے 35 کروڑ روپے کے ٹرین ٹکٹ خریدے۔