یوپی انتخاب: پسماندہ طبقات سے بی جے پی کی نفرت ایک بار پھر بے نقاب!

سال 2017 میں جب بی جے پی نے انتخابی منشور جاری کیا تھا تو کور پر کیشو پرساد موریہ کی تصویر موجود تھی، لیکن اس بار کور سے ان کی تصویر غائب ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پون نوٹیال

اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی نے آج اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے۔ بی جے پی نے اپنے منشور کو ’لوک کلیان سنکلپ پتر 2022‘ نام دیا ہے۔ نام سے ظاہر ہے کہ اس میں بی جے پی نے لوگوں کی فلاح سے متعلق عزم کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس سنکلپ پتر میں ایک ایسی چیز دیکھنے کو ملی ہے جو پارٹی کے پسماندہ طبقات سے متعلق اپنی نفرت کو ظاہر کرتی ہے۔ یا پھر یوں کہیں کہ پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے وعدے پر سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔

یوپی انتخاب: پسماندہ طبقات سے بی جے پی کی نفرت ایک بار پھر بے نقاب!

دراصل بی جے پی کے سابق قومی صدر امت شاہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ بی جے پی کا جو منشور جاری کیا ہے اس کے کور پر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی تصویر موجود نہیں ہے۔ اس عمل نے پسماندہ طبقات سے متعلق بی جے پی کی نیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یعنی 2017 میں جن پسماندہ طبقات سے جھوٹے وعدے کر حکومت اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی، اب اسی پسماندہ طبقہ سے آنے والے کیشو پرساد موریہ کی تصویر بی جے پی نے انتخابی منشور سے غائب کر دی۔ سال 2017 کی بات کریں تو اس وقت کیشو پرساد موریہ کی تصویر انتخابی منشور کے کور پر موجود تھی۔ فی الحال بی جے پی کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔