راجیہ سبھا: منریگا کے تحت اجرت 300 روپے اور 200 دن کام دینے کا مطالبہ

ٹی ایم سی کے مانس رنجن نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران منریگا کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے اور اس پر حکومت کو مسلسل توجہ دینی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں آج دیہی علاقوں میں روزگار کو یقینی بنانے والی مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم (منریگا) میں کم از کم 300 روپے یومیہ اجرت اور سال میں کم از کم 200 دن کا کام دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے مانس رنجن بھوئیاں نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران منریگا کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے اور اس پر حکومت کو مسلسل توجہ دینی چاہیے۔ دیہی علاقوں کی ترقی میں یہ منصوبہ اہم رول ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سماجی و اقتصادی حالات بدل رہے ہیں اور اسی کے مطابق منصوبہ میں بھی تبدیلی کی جانی چاہیے۔

انهوں نے کہا کہ منریگا کے تحت کم از کم 300 روپے یومیہ اجرت طے ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سال میں کم از کم 200 دن کام دینا بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے بہتر حالات اور لوگوں کی اقتصادی حالات بہتر بنانے میں مدد ہو گی۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی جھرنا داس ویدیہ نے کہا کہ خواتین کو سرکاری ملازمتوں اور پروقار روزگاروں میں کم از کم 50 فیصد ریزرویشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین زیادہ تر سروسز سیکٹرز میں کام کرتی ہیں۔ خواتین کو ایسے روزگار علاقوں میں کام ملتا ہے جو نسبتاً کم پروقار مانے جاتے ہیں۔ حکومت کو اس سمت میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، کانگریس کی وپلو ٹھاکر، سماج وادی پارٹی کی جیا بچن اور انادرمک کی وجیلا ستياناتھن نے بھی اس کی حمایت کی۔

Published: 17 Jul 2019, 8:10 PM