نبی کریم میٹرو اسٹیشن کا نام بدل کر رام نگر کرنے کا مطالبہ

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی میٹرو کے فیز 4 میں مجوزہ 'نبی کریم' اسٹیشن کا نام بدل کر 'رام نگر' رکھا جائے۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے رام نگر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی میٹرو اسٹیشنوں کے ناموں پر ایک اور بحث چھڑ گئی ہے۔ واضح رہے میور وہار کا نام پہلے ہی بدلا جا چکا ہے اور اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم کا نام بدل کر ’رام نگر‘ میٹرو اسٹیشن رکھا جائے ۔وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے صوبہ اندرا پرستھ کے وزیر سریندر کمار گپتا نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ 'نبی کریم' میٹرو اسٹیشن  کا نام تبدیل کر کے ’رام نگر ‘ رکھا جائے۔

خط میں سریندر گپتا نے لکھا کہ دہلی میٹرو اب صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں رہی۔ یہ دارالحکومت کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا بھی ایک بڑا حصہ بن گئی ہے۔ اس لیے، اسٹیشن کے ناموں کا فیصلہ کرتے وقت، پرانے ریونیو ریکارڈ، میونسپل دستاویزات، اور علاقے کی دہائیوں پر محیط مقبول شناخت پر غور کیا جانا چاہیے۔


انہوں نے وضاحت کی کہ یہ علاقہ طویل عرصے سے "رام نگر" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نام ریونیو ریکارڈ، مقامی پتے، بجلی اور پانی کے بلوں اور میونسپل ریکارڈز میں درج ہے۔ اگر "نبی کریم" نام کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مقامی تاریخ کو نظر انداز کیا جائے گا بلکہ عوامی جذبات کو بھی ٹھیس پہنچے گی اور اس علاقے کے بارے میں مسافروں میں الجھن پیدا ہوگی۔

واضح رہے سریندر گپتا نے اپنے مطابات میں کہا ہے کہ مجوزہ اسٹیشن کو جلد از جلد سرکاری طور پر "رام نگر" کا نام دیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ نام سازی کمیٹی میں مقامی نمائندوں، مورخین اور علاقہ مکینوں کو شامل کیا جائے اور آخر میں انہوں نے یہ مطابہ کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی نئے اسٹیشن کا نام فائنل کرنے سے پہلے عوام سے کھلی تجاویز لی جائیں اور اس عمل کو مکمل طور پر شفاف رکھا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔