محبانِ ادب نے کیفی اعظمی کی قبر سے ہٹائے گئے کتبہ کو دوبارہ لگانے کا کیا مطالبہ

کیفی اعظمی کی قبر پر نصب کتبہ میں لکھا تھا ’’خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے/ میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے‘‘۔ قبرستان کی نئے سرے سے تعمیر کے لیے کتبہ ہٹایا گیا تھا جسے پھر سے لگانے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔

کیفی آعظمی، تصویر آئی اے این ایس
کیفی آعظمی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: مشہور شاعر، صحافی اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار کیفی اعظمی کے 102 ویں یوم پیدائش پر عروس البلاد ممبئی کی کئی ادبی و ثقافتی تنظیموں اور اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں ان کی ایک یادگار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ شمال مغربی ممبئی کی چار بنگلہ قبرستان میں اُن کی قبر سے ہٹائے گئے کتبہ کو دوبارہ نصب کیا جائے۔ اردو کارواں، اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن، اردو چینلز اور بزم ادب وفن شامل ہیں۔

کیفی اعظمی کی قبر پر جو کتبہ نصب کیا گیا تھا، اُس پر لکھا تھا ’’خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے/ میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے‘‘۔ اس قبرستان کی نئے سرے سے تعمیر کے نتیجے میں کتبہ کو ہٹا دیا گیا تھا، لیکن اردو ادبی حلقہ اور فلمی دنیا سے کسی طرح کا احتجاج پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اردو کارواں کے صدر فرید خان نے قبر پر کتبہ لگانے کا مطالبہ کیا، جبکہ اردو چینل کے قمر صدیقی، اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر جاوید جمال الدین اور بزم ادب و فن کے مسرور حسن نے اس کی تائید کی ہے۔

حالانکہ کیفی کے نام سے ان کی بیٹی اداکارہ اور سابق ایم پی راجیہ سبھا شبانہ اعظمی نے جوہو والے پارلے میں ایک گارڈن بنایا ہے، لیکن فی الحال اس کی دیکھ بھال نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے باغ کا بُرا حال ہے۔ واضح رہے کہ شاعر، نغمہ نگار اور صحافی کیفی اعظمی نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی تحریک کے دوران اعظم گڑھ کے دیہی علاقے میں قومی ہم آہنگی وبھائی چارگی کے لیے کافی جدوجہد کی اور اپنے گاؤں مجواں سے ایک اینٹ بھی ایودھیا نہیں جانے دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔