'ہندو راشٹر' کے مطالبہ نے پکڑا زور، پرمہنس آچاریہ کی غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع

ایودھیا واقع تپسوی چھاؤنی کے پرمہنس آچاریہ نے پیر کی صبح 5 بجے غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ " ملک میں ہندو اکثریت میں ہیں لہٰذا اسے ہندو راشٹر قرار دیا جانا چاہئے۔"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ایودھیا: اترپردیش کے ضلع ایودھیا میں تپسوی چھاؤنی کے پرمہنس آچاریہ نے مرکزی حکومت سے ملک کو 'ہندو راشٹر' قرار دئیے جانے کے مطالبے کے ساتھ پیر کی صبح غیر معینہ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پرمہنس آچاریہ پیر کی صبح 5بجے بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور اعلان کیا کہ ان کا احتجاج اس ضمن میں حکومت کے ذریعہ انہیں پختہ تیقن کی فراہمی تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ " ملک میں ہندو اکثریت میں ہیں لہٰذا اسے ہندو راشٹر قرار دیا جانا چاہئے۔"

پرمہنس آچاریہ نے کہا کہ 6 مہینے قبل ہم نے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر انہیں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ اگر 12 اکتوبر کو ملک کو 'ہندو راشٹر' قرار نہیں دیا گیا تو وہ غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کو مجبور ہونگے۔ قابل ذکر ہے کہ پرمہنس آچاریہ اس سے پہلے بھی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے بھوک ہڑتال کر چکے ہیں۔اس وقت بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کی صحت کافی خراب ہوگئی تھی اور انہوں نے اپنا بھوک ہڑتال اس وقت ختم کیا تھا جب ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ بذات خود ایودھیا پہنچے اور انہیں رام مندر کی تعمیر کا تیقن دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 12 Oct 2020, 6:29 PM