روہنی کورٹ شوٹ آؤٹ کے بعد گینگسٹروں کو ذیلی عدالتوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیشی کا مطالبہ

روہنی عدالت میں گینگسٹر جتیندر گوگی کے قتل اور پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی میں دونوں مجرموں کی ہلاکت کے بعد ایک وکیل نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی ہے۔

روہنی عدالت، تصویر آئی اے این ایس
روہنی عدالت، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی میں واقع روہنی کورٹ میں وکیلوں کے بھیس میں آئے بدمعاشوں کی گولی باری کے پش منظر میں خطرناک گینگسٹروں کی ٹرائل کورٹ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیشی کے انتظامات کئے جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ روہنی عدالت میں گینگسٹر جتیندر گوگی کے قتل اور پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی میں دونوں مجرموں کی ہلاکت کے بعد ایک وکیل نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی ہے۔

ایڈوکیٹ وشال تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں سے ماتحت عدالتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں خطرناک مجرموں اور گینگسٹروں کو جسمانی طور پر نچلی عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت طلب کی ہے۔


تیواری نے ایک پی آئی ایل دائر کی ہے جس میں عدالتی افسران، وکلاء اور قانونی برادری کے تحفظ کے لیے مخصوص ہدایات، پالیسیاں اور قواعد جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ جولائی میں دھنباد میں ایک جج کے مبینہ قتل کے پس منظر میں ججوں اور عدالت کے احاطے میں مناسب سیکورٹی فراہم نہ کرنے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ اس نے ریاستی حکومتوں سے عدالت کے احاطے اور ججوں کو ان کے گھروں پر مناسب سیکورٹی فراہم کرنے پر جواب طلب کیا تھا۔

17 اگست کو عدالت عظمیٰ نے بڑی ریاستی حکومتوں پر سخت تنقید کی تھی اور ججوں اور عدالت کے احاطے میں حفاظتی اقدامات سے متعلق حلف نامے داخل نہیں کرنے کے سلسلے میں ہر ایک پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔