حقوقِ نسواں کی علمبردار اور سماجی خدمتگار کملا بھسین کا انتقال، کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں

کملا بھسین اکثر ڈراموں، نغموں اور اپنے فنون کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کام کرتی تھیں، انہوں نے حقوق نسواں اور پدرشاہی کے حوالہ سے کئی کتابیں تحریر کی تھیں

کملا بھسین / تصویر سوشل میڈیا
کملا بھسین / تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کام کرنے والی معروف سماجی خدمتگار اور شاعرہ کملا بھسین کا ہفتہ کی صبح انتقال ہو گیا۔ حقوقِ نسواں کے لئے اپنی زندگی کے آخری وقت تک سرگرم رہنے واالی کملا بھسین میں کچھ مہینے قبل کینسر کے مرض کی تشخیص کی گئی تھی۔ ان کے انتقال کی اطلاع سماجی کارکن کویتا شریواستو نے دی۔

کملا بھسین 1970 کے عشرے سے ہندوستان کے ساتھ دیگر جنوبی ایشائی ممالک میں حقوقِ نسواں کی ایک اہم آواز تھیں۔ سال 2002 میں انہوں نے خاتون حامی نیٹورک ’سنگت‘ کا قیام کیا، جو دیہی اور قبائلی طبقات کی محروم خواتین کے ساتھ کام کرتا ہے۔ وہ اکثر ڈراموں، نغموں اور فنون کا استعمال کر کے سماج میں حقوق نسواں کے لئے کام کرتی تھیں۔ بھسین نے حقوقِ نسواں اور پدرشاہی کو سمجھنے پر کئی کتابیں لکھی ہیں، جن میں سے کئی کتابوں کا 30 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔


کویتا شریواستو نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’ہماری ہر دل عزیز کملا بھسین کا آج 25 ستمبر کو تقریباً 3 بجے (رات کے آخری پہر) انتقال ہو گیا۔ ان کا انتقال ہندوستان اور جنوبی ایشیائی علاقہ میں تحریکِ نسواں کے لئے شدید دھچکا ہے۔ انہوں نے مخالف حالات میں زندگی کا جشن منایا۔ کملا آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہو گی۔ ایک بہن جو گہرے دکھ میں ہے۔‘‘

اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی نے بھی کملا بھسین کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’تیز طرار کملا بھسین نے اپنی آخری لڑائی، گائیکی اور زندگی کو بہتر طرح سے جینے کا جشن منایا۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔ ان کی جرأت مندانہ موجودگی، مسکراہٹ، نغمے اور بے مثال قوت ان کی وراثت ہے۔ ہم سب اسے سنبھال کر رکھیں گے، جیسا کہ ماضی میں ہم نے ارونا رائے کے لئے کیا۔‘‘


مورخ عرفان حبیب نے کملا بھسین کو یاد کرتے ہوئے لکھا، ’’عزیز دوست اور غیر معمولی انسان کملا بھسین کے پُر ملال انتقال کے بارے میں سن کر دکھ ہوا۔ ہم کل ہی ان کی صحت کے بارے میں بات کر رہے تھے لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اگلے ہی دن ہمیں چھوڑ کر چلی جائیں گی۔ آپ کی بہت یاد آئے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔