دہلی فساد متاثرین سماجی تنظیموں کی مدد پر منحصر، اب تک سرکاری امداد سے محروم

پہلے دہلی فساد اور اب کورونا بحران کے سبب شیو وہار کے باشندے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، دہلی وقف بورڈ اور دہلی حکومت سے مدد نہ ملنے پر ان میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم
user

محمد تسلیم

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں اس سال فروری ماہ میں ہوئے فسادات میں جن خاندان کے گھر جلائے گئے اور سازو سامان فساد میں تباہ و برباد ہو گیا تھا ایسے ہی خاندان کی زندگیوں کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے دہلی حکومت نے بڑے بڑے دعوے اور وعدے تو کیے تھے لیکن متاثرین کو اب تک کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ ظاہر ہے کہ دہلی حکومت ایک خاص طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ تاہم جو وعدے دہلی حکومت نے کیے تھے وہ اب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ دہلی فساد کو تقریباً پانچ ماہ ہوچکے ہیں لیکن اب بھی زیادہ تر مستحق خاندان معاوضہ کی خاطر در بدر کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں۔

گزشتہ روز قراول نگر کے فساد زدگان جب ایس ڈی ایم آفس معاوضہ کا فارم پُر کرنے کے لئے گئے تو ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور یہ کہا گیا کہ اب وقت ختم ہو گیا اب کوئی فارم بھرا نہیں جائے گا۔ اس کے علاوہ فساد کے بعد دہلی وقف بورڈ نے مصطفٰی آباد عید گاہ میں راحت رسانی کے لیے بڑا کیمپ لگایا تھا۔نیز مسلم اکثریتی علاقوں سے فساد زدگان کے لیے چندہ کی خطیر رقم بھی جمع کی تھی۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم

واضح رہے کہ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللّٰہ خان نے چیئرمین رہتے ہوئے جو رقم جمع کی تھی اس پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ امانت اللّٰہ خان کو دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کے بعد فساد متاثرین کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہا۔ جو رقم اور جو راحت رسانی کا کام امانت اللّٰہ خان کے چیئرمین رہتے ہوئے کیۓ گئے اُس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ اس بات کی دلیل یہ ہے جب فساد متاثرین سے پوچھا جاتا ہے کہ دہلی حکومت، دہلی وقف بورڈ سے آپ کو کیا ملا، تو ان کے چہرے مایوس ہو جاتے ہیں۔

قومی آواز کے نمائندہ نے دہلی فساد زدہ علاقوں کا دورہ کر جائزہ لیا۔ وہاں فساد متاثرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہمیں دہلی سرکار اور وقف بورڈ سے کوئی مدد نہیں مل پائی ہے۔ ہمارے علاقوں میں جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند راحت رسانی کے کاموں میں سرگرم افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے ہی فساد متاثرین کی مدد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ فساد زدگان کو مدد نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ ایف آئی آر نہ ہونا ہے۔ بعض متاثرین کے پاس یا تو کچی ایف آئی آر ہے یا پھر ایک ہی ایف آئی آر میں دس لوگوں کے نام درج ہیں اگر کوئی اپنا نام اس ایف آئی آر میں درج کرانے تھانے جاتا ہے تو وہ مایوس ہوکر لوٹتا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ فساد متاثرین میں زیادہ تر لوگ نا خواندہ (بنا پڑھے لکھے) ہیں۔ ان کو گائڈ کرنے والا کوئی نہیں جو ان کے تمام کاغذات تیار کر ا سکے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے شانختی کارڈ، آدھار کارڈ اور دیگر کاغذات فسادیوں نے جلا دیئے ہیں۔ دوبارہ بنوانے میں اُن کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم

اب تک معاوضہ ن ملنے پر شیو وہار میں رہنے والی سحر بانو نے روتے ہوئے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب دنگائی ہماری بستی میں داخل ہو رہے تھے تو ہمیں بغیر چپلوں ننگے پاؤں جان بچا کر بھاگنا پڑا، اس وقت ہمیں کُچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں، بس ہمیں اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔سحر بانو نے بتایا کہ بدمعاشوں نے ہمارے گھر کا تالا توڑ کر سارا سامان توڑ پھوڑ دیا۔ برسوں کی محنت کی کمائی جو ہم نے اپنے بچوں کی پرورش اور پڑھائی کے لیے جمع کی تھی اس کو بدمعاش لوٹ کر لے گئے اور جو زیور میری شادی کا تھا جو مصیبت میں کام آتا اس کو بھی انہوں نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے شوہر ناشتہ میں کھائے جانے والے بسکٹ، ٹوسٹ، پاپے سیل کرنے کا کام کرتے تھے اس کام میں جو دو موٹر سائیکلیں استعمال میں آتی تھی وہ بھی نذرِ آتش کردی گئیں۔ سحر بانو نے کہا کہ ہم نے تھانہ میں ایف آئی آر درج کرا دی ہے اور معاوضہ کا فارم بھی بھر دیا ہے۔ اس کے باوجود نہ تو دہلی سرکار نہ دہلی وقف بورڈ سے ایک روپیہ بھی ہمیں نہیں ملا ہے۔ انہوں نے مالی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہماری دہلی حکومت سے اپیل ہے کہ ہمیں معاوضہ دیا جائے تاکہ ہم اپنا کاروبار دوبارہ سے کھڑا کر سکیں۔

شیو وہار میں ان دنوں سخت پریشان حال فساد متاثرین میں احسان نامی شخص بھی ہیں۔ جو خود ایک ٹانگ سے معذور ہونے کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی معذور ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن کی کفالت کی ذمہ داری انہیں کے کندھوں پر ہے۔ انہوں نے نمائندہ کو بتایا کہ فساد سے تو ہم پہلے ہی ستائے ہوئے تھے اور اب کورونا بحران جس نے ہماری پریشانی و مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اس نے تو ہماری کمر ہی توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فساد میں ہمارا سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ فسادیوں نے ہمارا تقریباً دو لاکھ کا نقصان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شیو وہار میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں ہمیں مختلف مسائل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں سلائی کے جس کارخانہ میں کام کرتا تھا وہ کورونا بحران کی نذر ہو گیا ہے۔ اب ہمارے پاس کوئی دوسرا روزگار نہیں ہے۔ جو لوگ مدد کے لیے کُچھ رقم دے جاتے ہیں اس رقم سے ہم نے مکان کا کرایہ ادا کیا ہے۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم

آج کے حالات کے پیشِ نظر احسان نے اُمید بھرے لہجے میں کہا کہ ہمارا معاون و مددگار اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نکہت نامی سوشل ورکر جنہوں نے مجھے سلائی مشین خرید کر دے دی ہے جس سے میں سلائی کرکے اپنے گھر کے اخراجات پورے کروں گا۔ آخر میں احسان نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ہمیں صرف راشن ملا ہے۔ سلینڈر دینے کی یقین دھانی کرائی گئی تھی لیکن ابھی تک سلینڈر ہمیں نہیں ملا۔ جب نمائندہ نے ان سے پوچھا کیا آپ نے امدادی فارم بھرا ہے تو انہوں نے جواب دیا ہم نے دہلی حکومت، دہلی وقف بورڈ، جمعیۃ علماء ہند کے فارم بھرے ہیں لیکن پھر بھی ہماری کوئی مالی امداد ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔

شیو وہار کی مدینہ مسجد والی گلی میں رہنے والی رابعہ نامی خاتون نے خود نمائندہ سے بات چیت کے دوران کہا کہ ہم دس سال سے یہاں رہ رہے ہیں ہندو مسلمانوں میں کوئی تفریق نہیں تھی کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا ہم ہندوؤں کے گھر میں کرایہ پر رہ رہے تھے اس لیے گھر کو صرف لوٹا گیا جلایا نہیں گیا۔ فساد کے دس روز بعد جب ہم یہاں واپس آئے تو دیکھا گھر کا تالا ٹوٹا ہوا ہے، سامان بکھرا ہوا ہے، سلنڈر غائب ہے۔ پیسہ اور زیورات لوٹ چکے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ روزانہ محنت کرکے لڑکیوں کی شادی کے لیے جو رقم جوڑی تھی اس رقم کو نفرت کے پجاریوں نے لوٹ لیا۔ مذکورہ بالا فساد متاثرین کے طرح رابعہ کو بھی کوئی سرکاری مدد نہیں مل پائی ہے۔ نام نہ بتانے کی شرط پر کچھ لوگوں نے بتایا کہ علاقہ میں کچھ افراد ایسے بھی سرگرم ہو چکے ہیں جو کہ اگر کوئی باہر سے مدد کے لیے سامان یا رقم تقسیم کرنے آتا ہے تو وہ خود رکھ لیتے ہیں۔ اس وجہ سے مستحقین افراد مدد سے محروم ہو رہے ہیں۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم

فیض احمد جو بارہ سال سے شیو وہار میں کرائے پر رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے مدینہ مسجد سے اعلان ہوا تھا جو کرائے دار کرایہ ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں ان کا کرایہ مذہبی جماعتیں ادا کر دیں گی۔ لیکن افسوس کی بات اب تک اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے۔ آخر میں اُنہوں نے دہلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا جو نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کی جائے اور ہمارے مکان و دکان کا کرایہ معاف کیا جائے۔

next