دہلی فسادات: دہلی اسمبلی کی کمیٹی کا فیس بک کے عہدیدار کو نوٹس، 15 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم

دہلی اسمبلی کی امن و امان اور ہم آہنگی کمیٹی کے سربراہ راگھو چڈھا ہیں، کمیٹی فیس بک کے دہلی فسادات میں کردار کی جانچ کر رہی ہے۔ فیس بک کے سوالوں کے دائرے میں آنے کے بعد اجیت موہن کو سمن بھیجا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سوشل میڈیا پر نفرت آمیز تقاریر کے حوالہ سے چل رہے تنازعہ کے درمیان دہلی اسمبلی کی امن و امان اور ہم آہنگی کمیٹی نے فیس بک انڈیا کے وائس پریزیڈنٹ اور منیجنگ ڈائریکٹر اجیت موہن کو طلب کیا ہے۔ کمیٹی نے ہندوستان میں فیس بک کے اعلیٰ عہدیدار کو 15 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ دہلی اسمبلی کی امن و امان اور ہم آہنگی کمیٹی کے سربراہ راگھو چڈھا ہیں اور کمیٹی فیس بک کے دہلی فسادات میں کردار کی جانچ کر رہی ہے۔ فیس بک کے سوالوں کے دائرے میں آنے کے بعد اجیت موہن کو سمن بھیجا گیا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ جس طرح کے حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں ان کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے دہلی فسادات کی جانچ میں فیس بک کو شریک ملزم بنایا جانا چاہیے۔ شرپسندوں کی طرف سے فیس بک کو فسادات بھڑکانے میں آلہ کار کی طرح استعمال کرنے کے الزامات پر سوالوں کے جواب دینے کے لئے فیس بک انڈیا کے وائس پریزیڈنٹ کو طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ دہلی اسمبلی کی امن و امان اور ہم آہنگی کمیٹی نے فیس بک پر نفرت انگیز مواد پر آنے والی شکایات کو دانستہ طور پر نظرانداز کرنے کے معاملہ میں ایک میٹنگ کی تھی۔ میٹنگ میں کمیٹی کے سامنے تین گواہان نے پیش ہو کر بیان درج کرائے تھے۔ اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین راگھو چڈھا نے کہا کہ یہ انکشاف ہوا ہے کہ کچھ اعلی فیس بک کے عہدیدار بی جے پی کے حق میں کام کر رہے ہیں اور جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارم سے اس متنازعہ مواد کو نہیں ہٹا رہے۔

حال ہی میں پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مستقل کمیٹی نے بھی فیس بک پر عائد ہو رہے الزامات کے درمیان کمپنی کے عہدیداروں کو طلب کیا تھا۔ اس کمیٹی کے چیئرمین کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور ہیں۔

next