سو بار جھکا آکاش یہاں: قوم کی وراثت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی 100 سالہ تاریخ مکمل

سر سید ؒ نے جو خواب دیکھا تھا اس کا پہلا پڑاؤ ان کی زندگی میں ہی محض دو برس کی قلیل مدت کے بعد 1877 میں مدرسۃ العلوم سے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج بن کرایک قومی سطح کے ادارے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، تصویر قومی آواز
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، تصویر قومی آواز
user

ابو ہریرہ

ہندوستان میں قومی وراثت کا درجہ رکھنے والا بین الاقوامی سطح کا حامل عظیم الشان تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونورسٹی (اے ایم یو) نے اپنی بے بہا خدمات کے ساتھ مسلسل فعال رہتے ہوئے ایک صدی کی طویل مدت کا سفر طے کر لیا ہے۔ اپنے اندر سو سالہ تاریخ سمیٹے یہ ادارہ آج بھی اپنی خدمات مزید توانائی کے ساتھ انجام دینے میں سرگرم عمل ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کا وہ واحد ادارہ ہے جس نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو اپنی طاقت بنایا اور ملک کو گہر نایاب فرزند عطا کیے، جنہیں ملکی اور غیر ملکی سطح پر کبھی آفتاب تو کبھی مہتاب کہہ کر دنیا نے پکارہ، جو ملک اور سارے جہاں کی ترقی کے لئے نہایت مفید و معاون ثابت ہوئے۔

آج سے 145برس قبل کس کو علم تھا کہ 24 مئی1875 کو علی گرھ شہر کے باہرجس چھوٹے سے مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے وہ محض ایک مدرسہ کا نہیں بلکہ آنے والی نئی نسل کے مستقبل کو روشن کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دینے کا کام کرے گا اور ایک تناور درخت بن کر ساری دنیا کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔

اے ایم یو کا اسٹریچی ہال
اے ایم یو کا اسٹریچی ہال

سر سید ؒ نے جو خواب اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کا پہلا پڑاؤ ان کی زندگی میں ہی کامیابی کے ساتھ پورا ہو چکا تھا اورمحض دو برس کی قلیل مدت کے بعد ہی 1877 میں مدرسۃ العلوم سے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج بن کرایک قومی سطح کے ادارے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ رابطہ عامہ کے ممبر انچارج و سینئر پروفیسر شافع قدوائی کی اطلاع کے مطابق1877میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج بن جانے کے ایک مدت بعد ایم اے او کالج کے سابق طلباء و سرسیدؒ کے رفقاء نے اس ادارے کو مزید جلاء دینے کے لئے اپنی بہترین کاوشیں شروع کرتے ہوئے کالج سے یونیورسٹی بنانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی، حالانکہ یہ منصوبہ کہیں نہ کہیں سر سید ؒ کی زندگی میں ہی ایک خام سی شکل میں تیار ہو رہا تھا لیکن وہ کسی نا مصائب حالات اور وسائل کی کمی کے سبب مکمل نہیں ہو سکا۔

22 مارچ 1920 کو کالج کمیٹی کی جانب سے یونیورٹی ضابطہ کے مطابق ایک بل یونیورسٹی ایسو سی ایشن کے سامنے پیش کیا گیا جس میں کل17 ممبران شیخ محمد عبداللہ، نواب صدر یار جنگ، ڈاکٹر ایم ۔اے۔ انصاری، حکیم اجمل خاں، مولانا حسرت موہانی وغیرہ شامل تھے وہ بل یونیورسٹی ایسو سی ایشن کی جانب سے اگلے ہی روز 23 مارچ 1920 کو پاس کر دیا گیا۔

اے ایم یو کی مولانا آزاد لائبریری
اے ایم یو کی مولانا آزاد لائبریری

27 اگست 1920 کو یونیورسٹی ایسو سی ایشن کی جانب سے ایم او اے کالج کمیٹی کے ذریعہ پیش کردہ قرار داد (بل) کو ملک کی قانون ساز اسمبلی امپیریل لجسلیٹو کونسل کو ارسال کیا گیا جو کہ 09 ستمبر کو اسمبلی ممبران کی بحث اور مشورے کے بعد اتفاق رائے سے تسلیم کر لیا گیا۔ بل پر بحث کے دوران امپیریل لجسلیٹو کونسل میں ایجوکیشن کیٹی کے ممبر سر محمد شفی، خان بہادر ابراھیم، ہارون جعفر، چودھری اسمٰعیل خان و ایم او اے کالج کے سکریٹری سید محمدعلی نے حصہ لیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 09 ستمبر 1920کو یہ بل کامیابی کے ساتھ پاس ہو گیا۔

یونیورسٹی قائم کیے جانے والا یہ بل امپیریل لجسلیٹو کونسل نے ملک کے گورنر جنرل و وائس رائے کو بھیج دیا جو کہ انہیں 14ستمبر 1920 کو موصول ہوا۔ یہ بل سب سے اہم اور خاص اہمیت کا حامل اس لئے بھی ہے کہ گورنر جنرل وائس رائے عزت ماب جیرین جمس فورڈ امپیریل لجسلیٹو کونسل میں خود تشریف لائے اور انہوں نے کونسل ہال میں موجود تمام اعزازی ممبران کو خطاب کرتے ہوئے ایم اے او کالج کے بل کو منظور کیے جانے کا اعلان کیا۔ اس طرح مسلم یونیورسٹی کے تاریخی اوراق میں ایک سنہرے باب کا آغاز ہوا۔

پروفیسر شافع قدوائی نے بتایا کہ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس کی سو سال کا سفر مکمل کیے جانے کی خوشی میں ایک عظیم جلسہ منعقد کیے جانے کا خاکہ ایک برس قبل ہی تیار کر لیا گیا تھا لیکن کووڈ۔ 19َ کی وباء کے مد نظر ابھی اس جلسہ کے انعقاد پر مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں ہو سکی ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس کی صد سالہ تاریخی جشن منانے کے لئے نئی تاریخ کا اعلان کووڈ۔19کے خاتمہ کے بعد کیے جانے کی امید ہے۔

Published: 12 Sep 2020, 1:40 PM
next