اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین بی جے پی کی ’بی ٹیم‘: فیصل علی

فیصل علی نے کہا کہ اویسی نے اس بار بہار اسمبلی کی 50 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ سبھی امیدوار ان علاقوں میں اتارے جائیں گے جہاں آر جے ڈی امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما سید فیصل علی نے اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کو بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار کے مسلمان فرقہ وارانہ طاقتوں کو مستحکم کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کام کرنے والوں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اور وقت آنے پر ان لوگوں کو اس کا مناسب جواب دیں گے۔

فیصل علی نے ہفتہ کے روز یہاں ’یواین آئی‘ کو بتایا کہ مسلمان اپنی قطار میں کھڑے غداروں کو صحیح طور پر پہچانتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ جواب دینا بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اویسی نے اس بار بہار اسمبلی کی 50 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اوریہ سبھی امیدوار ان علاقوں میں اتارے جائیں گے جہاں آر جے ڈی امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ کس پارٹی کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

شیوہر لوک سبھا حلقہ کے سابق امیدوار فیصل علی نے کہا کہ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنے چھ امیدوار کھڑے کیے تھے لیکن پانچ کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ اس وقت بھی مسلمانوں نے اپنے معاشرے کے میرجعفر کی صحیح شناخت کر کے اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار بھی مسلم معاشرے کے لوگ فرقہ وارانہ قوتوں کو کمزور کرنے کے لئے کسی کے گمراہ کرنے اور ورغلانے میں نہں آنے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ آر جے ڈی واحد ایسی پارٹی ہے جس نے کبھی بھی فرقہ وارانہ قوتوں سے ہاتھ نہیں ملایا اور ہمیشہ دبے کچلے اور سماج کے محروم لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ لالو یادو نے ہمیشہ سماج کے آخر میں کھڑے لوگوں کی آواز بننے کا کام کیا ہے اور فرقہ واریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے اور بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کو قائم کیا اور فروغ دیا ہے۔

فیصل علی نے کہا کہ بی جے پی اپنے مخالفین کے خلاف بڑے امیدوار کھڑے کرتی ہے لیکن آج تک اویسی کے خلاف کوئی مضبوط امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ بی جے پی بخوبی واقف ہے کہ اویسی کی جیت ہی بی جے پی کی بہت سی سیٹیں جیتنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اویسی نے اپنا منہ کھولا ہے، بی جے پی کو براہ راست فائدہ ہوا ہے۔ ملک کا مسلمان اسد الدین اویسی کے پیچھے چھپے ہوئے آر ایس ایس کے چہرے کو پہچانتا ہے۔

سینئر صحافی فیصل علی نے ’جن ادھیکار پارٹی‘ کے سربراہ پپو یادو پر بھی کڑی تنقید کی کہ ان کی نہ تو کوئی بنیاد ہے اور نہ ہی تنظیم۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ووٹوں کو منتشر کرکے بہار میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے جس کے لئے چھوٹی پارٹیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے بہار کے لوگوں خصوصاً اقلیتوں کو انتہائی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

next