دہلی فساد : رپورٹنگ کرنے گئے صحافیوں پر بھیڑ کا حملہ، خاتون صحافی کو بھی نہیں بخشا، پولیس میں شکایت

رپورٹ کے مطابق وہاں موجود ایک شخص جو بھگوا کرتا پہنے ہوئے تھا خود کو بی جے پی کا جنرل سکریٹری بتا رہا تھا۔ اس نے تانترے سے شناختی کارڈ طلب کیا، جیسے معلوم ہوا کہ تانترے مسلمان ہے ان پر حملہ کر دیا۔

پربھجیت سنگھ اور شاہد تانترے، تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
پربھجیت سنگھ اور شاہد تانترے، تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

عمران

نئی دہلی: رواں سال قومی راجدھانی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق رپورٹنگ کے لئے شمال مشرقی دہلی کے ایک علاقہ میں پہنچے صحافیوں کو ہجوم نے نشانہ بنایا۔ یہ تینوں صحافی ’کارواں‘ میگزین سے تعلق رکھتے ہیں اور فساد متاثرہ بھجن پورہ میں رپورٹنگ کے لئے پہنچے تھے۔ معاملہ میں صحافیوں کی جانب سے دہلی پولیس میں شکایت کی گئی ہے۔

دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق جن صحافیوں پر حملہ کیا گیا ہے ان میں فوٹو جرنلسٹ شاہد، پربھجیت سنگھ اور ایک خاتون صحافی جو نام ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتیں، شامل ہیں۔ الزام ہے کہ بھجن پورہ علاقہ میں ان تینوں کو بھیڑ نے گھیر لیا اور ان کے ساتھ دھکا مکی کی گئی۔

’کارواں‘ کے لئے بطور فوٹو جرنلسٹ کام کرنے والے شاہد نے دی کوئنٹ سے بات چیت میں کہا کہ ’’ہم دہلی فساد کے تعلق سے ایک اسٹوری کرنے کے لئے اس علاقہ میں گئے تھے۔ ہم علاقہ میں کچھ تصاویر لے ہی رہے تھے کہ اچانک ایک بھگوا کپڑے پہنے شخص ہماری طرف لپکا اور کہنے لگا کہ فوٹو لینا بند کرو اور میموری کارڈ ہمیں دے دو۔‘‘

شاہد نے مزید بتایا کہ وہ ہمیں کیمرہ دینے کے لئے مجبور کرتا رہا لیکن ہم نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے کچھ لوگوں کو فون کیے اور کچھ ہی دیر میں ہمارے ارد گرد بھیڑ جمع ہونے لگی اور اس نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ‘‘ بھجن پورہ کے ایس ایچ او نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور شکایت درج کر لی گئی ہے۔

کارواں کی ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق، ’’کارواں کے صحافی دہلی تشدد کی ایک شکایت کنندہ پر رپورٹ کرنے وہاں گئے تھے۔ تقریباً 2 گھنٹے تک شاہد تانترے، پربھجیت سنگھ اور کارواں کی خاتون صحافی پر حملہ ہوتا رہا۔ انہیں مذہبی شناخت کی گالیاں دی گئیں، قتل کرنے کی دھمکی دی گئی اور ان پر تشدد بھی کیا گیا۔‘‘

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود ایک شخص جو بھگوا کرتا پہنے ہوئے تھا، خود کو بی جے پی کا جنرل سکریٹری بتا رہا تھا۔ اس شخص نے تانترے سے شناختی کارڈ طلب کیا اور جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ تانترے ایک مسلمان ہے ان پر لوگوں نے حملہ کر دیا۔ خاتون صحافی جب وہاں سے بھاگنے لگی تو ایک درمیانی عمر شخص نے ان سے چھیڑ خانی کی۔ میگزین کے مطابق خاتون صحافی پر بھی حملہ کیا گیا، سلامتی کے پیش نظر کارواں نے خاتون صحافی کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

ادھر نیوز ایجنسی بھاشا کے مطابق دنوں فریقین کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (مشرقی علاقہ) آلوک کمار نے کہا، ’’ہمیں دونوں فریقین کارواں میگزین اور شمال مشرقی دہلی کے سبھاش محلہ کے مرد و خواتین کے ایک گروپ کی شکایات موصول ہوئی ہے اور ہم ان پر غور کر رہے ہیں۔‘‘

میگزین کے ہندی ورزن سے بدھ کے روز کیے گئے سلسلہ وار ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’’کل دوپہر شمال مشرقی دہلی کے سبھاش محلہ میں مرد اور خواتین کے ایک گروپ نے کارواں کے تین صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے سے روکنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ صحافیوں پر مذہبی شناخت کے تبصرے بھی کیے گئے۔ متاثرین میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ میگزین نے کہا کہ بعد میں تینوں صحافیوں کو پولیس نے بچایا اور انہیں نزدیکی بھجن پورہ تھانہ لے کر گئی۔ قابل ذکر ہے کہ سی اے اے کی مخالفت میں مظاہروں کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ ان فسادات میں کم از کم 53 افراد کی موت ہو گئی تھی جبکہ 200 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 12 Aug 2020, 7:11 PM
next