دہلی فسادات سازش معاملہ: عدالت کے حکم کے بعد گلفشاں فاطمہ سمیت چار ملزمان کی رہائی، جیل کے باہر جذباتی مناظر
سال 2020 دہلی فسادات سازش معاملہ میں سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد کڑکڑڈومہ کورٹ کے حکم پر گلفشاں فاطمہ سمیت 4 ملزمان رہا ہوئے۔ رہائی کے بعد جیل کے باہر اہلِ خانہ سے ملاقات پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے

نئی دہلی: سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی سازش معاملہ میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد بدھ کے روز دہلی کی کڑکڑڈومہ عدالت نے گلفشاں فاطمہ، شفاء الرحمٰن، میران حیدر اور محمد سلیم خان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے۔ عدالتی حکم کے چند گھنٹوں بعد رات کو گلفشاں فاطمہ، شفاء الرحمٰن اور میران حیدر تہاڑ جیل سے جبکہ محمد سلیم خان منڈولی جیل سے رہا ہوئے۔
ایڈیشنل سیشنز جج سمیر باجپئی نے چاروں ملزمان کی جانب سے جمع کرائے گئے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور مقامی ضمانت داروں سے متعلق دستاویزات کو قبول کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ دہلی پولیس کی جانب سے ضمانت داروں اور دستاویزات کی جانچ کے باعث رہائی میں ایک دن کی تاخیر ہوئی۔
واضح رہے کہ ایک پانچویں ملزم شاداب احمد کو بھی سپریم کورٹ سے ضمانت مل چکی تھی، تاہم وہ ضمانتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، جس کے سبب ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی۔
جیل سے باہر آتے ہی گلفشاں فاطمہ اور دیگر رہا ہونے والے ملزمان کا اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں نے پھولوں کی مالاؤں اور مٹھائیوں کے ساتھ استقبال کیا۔ طویل عرصے بعد اپنوں سے ملاقات پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ جیل حکام نے تصدیق کی کہ عدالتی احکامات موصول ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر قانونی کارروائی مکمل کر کے ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے ضمانت دیتے وقت تمام ملزمان پر 11 سخت شرائط عائد کی ہیں۔ ان شرائط کے مطابق تمام ملزمان کو اپنے پاسپورٹ جمع کرانے ہوں گے، عدالت کی اجازت کے بغیر دہلی (این سی ٹی) کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی، وہ اس معاملے سے جڑے کسی بھی گواہ سے رابطہ نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی ایسی تنظیم یا سرگرمی میں شامل ہوں گے جس کا تعلق اس ایف آئی آر سے ہو۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
گلفشاں فاطمہ کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران ان کے خلاف آزادانہ کمان، وسائل پر کنٹرول یا اسٹریٹجک نگرانی کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ عدالت کے مطابق مقامی خواتین کو منظم کرنے یا احتجاجی مقامات پر تال میل سے متعلق الزامات استغاثہ کے لیے اہم ہو سکتے ہیں، مگر ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے پاس متعدد مقامات پر فیصلہ کن اختیار تھا۔
دوسری جانب ان رہائیوں کے درمیان ایک اور ملزم سلیم ملک عرف منّا نے عدالت میں نئی ضمانت عرضی دائر کی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان پر عائد الزامات محمد سلیم خان جیسے ہیں اور وہ بھی چاند باغ احتجاجی مقام سے وابستہ ایک مقامی کارکن تھے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے برابری (پیریٹی) کے اصول کے تحت ضمانت کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران شمال مشرقی دہلی میں تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں نامزد 20 ملزمان میں سے دو اب بھی مفرور ہیں، جبکہ عمر خالد اور شرجیل امام سمیت سات ملزمان تاحال جیل میں بند ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون کے تحت ابتدائی طور پر معاملہ بنتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔