ضمانت مسترد ہونے پر عمر خالد نے کہا ’اب جیل ہی میری زندگی ہے‘، ساتھیوں کی رہائی پر خوشی کا اظہار
عمر خالد نے کہا کہ طویل قید کے باعث جیل ہی اس کی زندگی بن چکی ہے، تاہم ساتھیوں کی رہائی پر خوشی ہے۔ ان کے والد قاسم رسول الیاس نے میڈیا سے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا اور اس پر مزید کچھ نہیں کہنا

مشرقی دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی سازش سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے طلبا لیڈرعمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی گئی ہے جب کہ اسی معاملے میں 5 دیگر ملزمین گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی گئی ہے۔ پیر کے روز عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد معاملے سے متعلق افراد اور حامیوں کے درمیان مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیر کو عمر خالد نے اپنی ساتھی بانو جیوتسنا لہری سے بات چیت میں کہا کہ اب جیل ہی ان کی زندگی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ دوسروں کو ضمانت مل گئی ہے، خواہ انہیں خود راحت نہیں ملی۔
بانو جیوتسنا لہری نے اس بات چیت کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ عمر خالد نے کہا کہ وہ دوسروں کی ضمانت سے بہت خوش ہیں اور راحت محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اگلے دن ان سے ملنے آئیں گی، جس پر عمر نے جواب دیا کہ اب یہی زندگی ہے۔
واضح رہے کہ دہلی فسادات سازش معاملے میں پیر کے روز آنے والے فیصلے کے وقت سپریم کورٹ میں زیادہ تر متعلقین موجود تھے۔ اس دوران عمر خالد کے والد قاسم رسول الیاس نے میڈیا کے سوالوں کی بارش کے دوران اپنے مختصر جواب میں کہا کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آگیا ہے، اب مجھے اس پر کچھ نہیں کہنا ہے۔ سپریم کورٹ کا پورا فیصلہ آپ کے سامنے ہے۔
یاد رہے کہ این آر سی کے خلاف ملک گیر پیمانے پر جاری احتجاج کے دوران شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 میں فساد بھڑک اٹھا تھا جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں کئی لوگوں پر فرد جرم عائد کی ہے۔ شرجیل امام کو 28 جنوری 2020 کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اگست 2020 میں انہیں بڑی سازشی کیس میں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تمام ساتوں ملزمین کے خلاف یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔