کسان تحریک: دہلی تشدد معاملہ میں کسان رہنماؤں کے خلاف نوٹس کے بعد لُک آؤٹ نوٹس بھی جاری

لُک آؤٹ نوٹس جاری کرنے سے پہلے دہلی پولیس نے یوگیندر یادو سمیت 20 کسان رہنماؤں کو نوٹس جاری کیا اور سب کو تین دن کے اندر جواب دینے کو کہا۔ نوٹس میں رہنماؤں پر معاہدے کو توڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہل: دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئے تشدد میں دہلی پولیس مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ دہلی پولیس نے اب امیگریشن کی مدد سے کسان رہنماؤں کے خلاف لُک آؤٹ نوٹس جاری کیے ہیں۔ جن کسان رہنماؤں کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کر لئے جائیں گے، یہ معلومات دہلی پولیس نے دی ہے۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئے تشدد کے بعد دہلی پولیس ایکشن میں ہے۔ 20 کسان رہنماؤں کو نوٹس جاری کرنے کے بعد اب ان رہنماؤں کے خلاف لُک آؤٹ نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔

قبل ازیں، پولیس نے یوگیندر یادو سمیت 20 کسان رہنماؤں کو نوٹس جاری کیا تھا اور سب کو تین دن کے اندر جواب دینے کو کہا گیا۔ نوٹس میں رہنماؤں پر ٹریکٹر ریلی کے لئے ہوئے دہلی پولیس اور کسان رہنماؤں کے مابین معاہدے کو توڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے نوٹس میں کسان رہنماؤں سے کہا کہ وہ بتائیں کہ تشدد ہونے کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔


دہلی پولیس کمشنر نے بدھ کے روز دہلی میں ہونے والے تشدد سے متعلق پریس کانفرنس کی تھی۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کسان رہنماؤں پر دھوکہ دہی اور ٹریکٹر ریلی کے لئے ہوئے معاہدے کو توڑنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے پریس کو بتایا کہ پولیس کے پاس ویڈیوز موجود ہیں، تشدد میں ملوث کسی کو بھی شکص کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کسان رہنماؤں کو کنڈلی، مانیسر، پلول میں کچھ شرائط کے ساتھ ٹریکٹر مارچ کی منظوری دی گئی تھی۔ لیکن کسانوں نے مقررہ راستے کی خلاف ورزی کی اور رکاوٹیں توڑ کر دہلی کے اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسانوں کو ریلی کی اجازت دی گئی تھی تو یہ کہا گیا تھا کہ ریلی میں 5000 سے زیادہ ٹریکٹر نہیں ہونے چاہئیں اور ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوگا۔ لیکن کسانوں نے پولیس کی ہدایتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر پرتشدد واقعات کو انجام دیا۔

دہلی پولیس کمشنر نے کہا کہ "ہم نے کسان رہنماؤں سے معاہدہ کیا تھا اور انہوں نے ہمیں دھوکہ دیا، لہذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اگر کوئی کسان رہنما تشدد میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وہ لوگ جو غازی پور میں کسان رہنما راکیش ٹکیت کے ساتھ موجود تھے انہوں نے بھی تشدد کو انجام دیا اور اکشردھام تک گئے، جہاں سے کچھ کسان پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر لال قلعے تک پہنچ گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔