دہلی بنی ’اسموگ ٹاور‘ لگانے والی ہندوستان کی پہلی ریاست، اب آلودہ ہوا بنے گی خالص

وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ دنیا میں چین میں اس قسم کے اسموگ ٹاورکو لگایا گیا ہے، لیکن چین کی ٹیکنالوجی اور اس اسموگ ٹاور کی ہماری ٹیکنالوجی میں تھوڑا سا فرق ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا ہے کہ وزیر اعلی اروند کجریوال کی قیادت میں آلودہ ہوا کو پاک کرنے کے لئے اسموگ ٹاور لگانے والی دہلی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ رائے نے آج بابا کھڑگ سنگھ مارگ، کناٹ پلیس میں نصب کیے جانے والے اسموگ ٹاور کا جائزہ لیا اور کہا کہ 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نصب ہونے والے اسموگ ٹاور کا کام 15 اگست تک مکمل کرلیا جائے گا، اس کے بعد ماہرین ماحولیات اس کے نتائج کا مطالعہ کریں گے۔ اسموگ ٹاور اوپر سے آلودہ ہوا کو کھینچ کر ہوا کو پاک کرے گا اور اسے 10 میٹر کی بلندی پر چھوڑ دے گا۔

گوپال رائے کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار اسموگ ٹاور کی تعمیر کے لئے آئی ٹی ممبئی، این بی سی سی اور ٹاٹا پروجیکٹس ڈی پی سی سی کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے۔ اگر یہ پہلا پائلٹ منصوبہ کامیاب رہا تو دہلی میں اس طرح کے مزید اسموگ ٹاور لگائے جائیں گے۔ اس ٹاورکی اونچائی تقریبا 25 میٹر ہے اور اس کا طول 40 بائیس مربع میٹر ہوگا۔ یہ اسموگ ٹاورایک ہزار مکعب میٹر ہوا فی سیکنڈ پاک کرکے اسے باہر کی جانب خراج کرے گا۔


وزیر ماحولیات نے کہا کہ دنیا میں چین میں اس قسم کے اسموگ ٹاورکو لگایا گیا ہے، لیکن چین کی ٹیکنالوجی اور اس اسموگ ٹاور کی ہماری ٹیکنالوجی میں تھوڑا سا فرق ہے۔ جس اسموگ ٹاور کو ہم لگارہے ہیں اس میں امریکی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ چین میں نصب اسموگ ٹاور نیچے سے ہوا کھینچتا ہے اور اسے اوپر سے خارج کرتا ہے۔ جبکہ ہم جو اسموگ ٹاور نصب کر رہے ہیں، اس میں ہوا کھینچنے کا عمل اس کے برعکس ہے۔ یہ اوپر سے آلودہ ہوا کو کھینچ لے گا اور نیچے صاف ہوا کو جاری کرے گا۔ اس کے چاروں طرف 40 پنکھے ہیں، جو ہوا کو پاک کرکے اسے 10 میٹر کی بلندی پرخارج کرے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس کا اثر ایک مربع کلومیٹر تک ہوگا، تاکہ 2.5 پی ایم اور منفی 10 پی ایم یعنی جو آلودہ ہوا ہے ا س کو صاف کیا جاسکتا ہے۔ یہ دہلی حکومت کا ایک بڑا پروجیکٹ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;